سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 45
۴۵ ہیں اور پھر ہمیں ان ممالک میں کام کرنا پڑتا ہے جہاں سینکڑوں سال سے عیسائی اپنی تبلیغ کرتے چلے آ رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے سات جگہ انہوں نے تسلیم کیا کہ احمدیوں نے ان کی ترقی بند کر دی ہے۔تو کثرت سے اس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں جہاں عیسائیوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ احمدیت نے عیسائیت کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔حالانکہ عیسائی چالیس کروڑ کے قریب ہیں۔پھر انہیں حکومت حاصل ہے۔ان کے پاس روپیہ اور طاقت ہے مگر پھر بھی ہر جگہ انہیں شکست ہوتی چلی جاتی ہے۔ابھی سیرالیون میں، میں نے اپنا ایک مبلغ بھجوایا تھا جس کی رپورٹیں الفضل میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان رپورٹوں میں بھی یہی لکھا ہوتا ہے کہ فلاں عیسائی رئیس مسلمان ہو گیا اور فلاں معزز عیسائی نے اسلام کا مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔پادریوں نے جب یہ حالت دیکھی تو وہ کمشنر کے پاس پہنچے اور پہلے تو یہ کہا کہ یہ باغی ہیں اور پھر یہ شور مچایا کہ ان کی تقریروں سے ملک میں فتنہ پیدا ہوتا ہے انہیں روکا جائے۔اس پر ہمارے مبلغوں نے جب اصل حقیقت بتائی تو کمشنر نے کہا کہ میں اب اس علاقہ کا دورہ کروں گا اور پادریوں کو ڈانٹوں گا کہ وہ آپ لوگوں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کیوں کرتے ہیں۔اگر انہیں مقابلہ کا شوق ہے تو مذہبی رنگ میں مقابلہ کر لیں۔یہی حال یہاں ہے چنانچہ کوئی سال ایسا نہیں گذرتا جس میں چار پانچ ہزار کے قریب آدمی ان میں سے نکل کر ہم میں شامل نہ ہو جاتے ہوں۔لیکن ہم سے شاذ و نادر کے طور پر ہی کوئی ادھر جاتا ہے اور اگر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور کئی آدمی بھجوا دیتا ہے۔یہ فوقیت اور برتری جو ہماری جماعت کو حاصل ہے درحقیقت اس علم وجہ سے ہے جو جماعت کو دیا جاتا ہے اور جس کے بعد کوئی شخص دوسروں کے فریب میں نہیں آتا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو دوسروں کے دلائل سے آگاہ رکھیں اور ہر فرد کے یہ ذہن نشین کریں کہ دوسرا کیا کہتا ہے اور اسکے اعتراضات کا کیا جواب ہے اور میں اس غرض کے لئے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ سال میں ایک ایسا ہفتہ مقرر کریں جس میں ان کی طرف سے یہ کوشش ہو کہ وہ جماعت کے ہر فرد کو نہ صرف اپنی جماعت کے مسائل سے آگاہ کریں بلکہ یہ بھی بتائیں کہ دوسروں کے کیا کیا اعتراضات ہیں اور