سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 41
۴۱ جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ہر سال ایک ہفتہ ایسا منایا کریں جس میں وہ جماعت کے افراد کے سامنے مختلف تقاریر کے ذریعہ نہ صرف اپنی جماعت کے عقائد بیان کیا کریں بلکہ یہ بھی بیان کیا کریں کہ دوسروں کے کیا اعتراضات ہیں اور ان اعتراضات کے کیا جوابات ہیں؟ ہر مسجد میں اس قسم کی تقریریں ہونی چاہئیں اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہئے کہ لوگ یہ یہ اعتراضات کرتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ جوابات ہیں۔فرض کر و خلافت کا مسئلہ جس رنگ میں ہماری جماعت کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ غلط ہے تو کیوں کسی کا حق نہیں کہ وہ ہمیں سمجھائے ؟ یا فرض کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں تو جو شخص ہمیں سمجھاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہیں وہ ہمارا محسن ہے نہ کہ دشمن بشرطیکہ وہ شرارت یا بد دیانتی نہ کر رہا ہو۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے بعض مخالف سنجیدگی اور شرافت کے ساتھ بات نہیں کرتے اور پھر جو حوالے پیش کرتے ہیں ان میں بھی دیانت سے کام نہیں لیا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ لکھا ہوتا ہے اور وہ کسی اور رنگ میں اسے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔اگر وہ شرافت کے ساتھ اپنے عقائد کو پیش کریں تو ہم ان کی باتیں خوشی کے ساتھ سننے کے لئے تیار ہیں۔قادیان میں ایک دفعہ آریوں کے جلسہ پر دیانند کالج کے ایک پروفیسر صاحب آئے ان دنوں میں اسی مسجد اقصیٰ میں درس دیا کرتا تھا۔جلسہ سے فارغ ہو کر مجھے ملنے کے لئے اسی مسجد میں آگئے۔میں نے ان سے کہا کہ قادیان ایسا مقام ہے جس میں ہماری تعداد دوسروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔پس یہاں آپ کا آنا اسی صورت میں فائدہ بخش ہو سکتا تھا جب آپ اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے ورنہ آپ کے اپنے آدمی تو جانتے ہی ہیں کہ آپ کے کیا عقائد ہیں اور ان عقائد کے کیا دلائل ہیں۔اگر یہاں آ کر بھی آپ نے اپنے آدمیوں کے سامنے ہی ایک تقریر کر دی تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔فائدہ تو تب ہوتا جب آپ ہمیں بتاتے کہ آپ کے مذاہب کی کیا تعلیم ہے۔وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے مگر میں نے سمجھا کہ آپ اپنے آدمیوں کو ہماری باتیں سننے کے لئے کب اکٹھا کر سکتے ہیں؟ میں نے ان سے کہا یہ غلط ہے۔مسجد ہمارا سب سے مقدس مقام ہوتا ہے اور پھر یہ مسجد تو وہ ہے جسے ہم مسجد اقصی قرار دیتے ہیں۔آپ آئیں اور اس مسجد میں تقریر کریں۔میں اپنی جماعت کے دوستوں سے کہوں گا کہ وہ آپ کی تقریر کوسنیں۔چنانچہ اس مسجد میں دیا نند کالج کے پروفیسر صاحب نے تقریر کی اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ان سے تبادلہ