سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 42
۴۲ خیالات کیا۔تو خیالات کا تبادلہ بابرکت چیز ہے۔اگر ہماری جماعت التزام کے ساتھ دوسروں کے خیالات کو سنے۔ان کے لٹریچر کو پڑھے اور ان کے دلائل کو معلوم کر کے ان کے جوابات کو جماعت کے ہر فرد کے ذہن میں اچھی طرح راسخ کر دے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا ہر فرد ایمانی لحاظ سے اتنا مضبوط ہو جائے کہ کوئی شخص اسے ورغلا نہ سکے۔اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق اسے کوئی دھوکا دینا چاہے گا تو وہ فوراً ہوشیار ہو جائے گا اور کہے گا مجھے خوب معلوم ہے کہ تم اعتراض کرنا چاہتے ہو۔تم بے شک اعتراض کر دمگر مجھے ان کے جوابات بھی معلوم ہیں اور ان جوابات کے سامنے تمہارے اعتراضات کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی صفات کے متعلق اگر کوئی اعتراض کرے گا تو وہ گھبرائے گا نہیں بلکہ ان کا جواب دینے کے لئے فوراً تیار ہو جائے گا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، اسلام کی صداقت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت اور جماعت احمدیہ کی حقانیت کے متعلق جب بھی کوئی اس کے دل میں وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرے گا وہ عمدگی کے ساتھ اس کے وساوس کا ازالہ کر دیگا اور اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔یہ وہ مقام ہے جس پر اگر ہم اپنی جماعت کو کھڑا کر دیں تو ہم اس سے حقیقی نیکی کرنے والے ہونگے۔یہ کوئی نیکی نہیں کہ ہم پچاس یا ساٹھ یا سو آدمیوں کو دوسروں سے چھپا کر خدا تعالیٰ کے پاس لے جائیں۔کیونکہ خدا چوروں کی طرح دوسروں کی نظر سے چھپ چھپ کر آنے والوں کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ ان کو پسند کرتا ہے جو دھڑلے سے سب کے سامنے آئیں اور علی الاعلان آئیں۔اگر تم خدا کے پاس ایک بھی ایسا شخص لے کر حاضر ہوتے ہو جسے دنیا کا کوئی آدمی گمراہ نہیں کر سکتا تو خدا بہت زیادہ خوش ہوگا بہ نسبت اس کے کہ تم سو یا ہزار ایسے آدمی اس کے سامنے پیش کرو جنہیں دوسروں کے عقائد سے بے خبر رکھا گیا ہو اور جنہیں چوری چھپے اپنے مذہب میں شامل کر لیا گیا ہو۔خدا تعالیٰ تعداد کی زیادتی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوگا بلکہ وہ کہے گا کہ میں ان سو یا ہزار کو کیا کروں، ان میں سے تو ہر شخص آسانی سے دوسروں کا شکار ہو سکتا اور گمراہی اور ضلالت کے گڑھے میں گر سکتا ہے۔پس یا درکھو خدا کے حضور وہی مقبول ہوتے ہیں جن کا ایمان علی وجہ البصیرت ہو اور جو دوسرے کے ہر اعتراض کا جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔چنانچہ قرآن کریم میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔قُلْ هَذِهِ سَبِيْلِيِّ اَدْعُو إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (سوره یوسف آیت ۱۰۹)