سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 40
۴۰ ہے؟ اب اگر میرے سامنے کوئی عیسائی آئے اور کہے کہ مسیح ابن اللہ تھے تو مجھ پر اس کی اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مسیح کو کن معنوں میں ابن اللہ کہا گیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ مسیح ایک بشر تھا۔میں جانتا ہوں کہ اس کے ابن اللہ ہونے کے کیا دلائل ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جن قرآنی آیات سے وہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ان کا کیا مفہوم ہے؟ میں نے ان کے اعتراضوں کو پڑھا۔ان کے جوابات کو سمجھا اور مجھے یقین حاصل ہو گیا کہ جن آیات سے وہ حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ان کے معنی وہ نہیں جو وہ کرتے ہیں بلکہ اور ہیں۔مثلاً اگر کوئی عیسائی کہے کہ قرآن کریم میں حضرت مسیح کے متعلق رُوح منہ کے الفاظ آتے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ روح اللہ تھے تو میں اس سے قطعا نہیں گھبراؤں گا کیونکہ مجھے اس اعتراض کا جواب آتا ہے اور جب آتا ہے تو میرے لئے گھبرانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔تو غیروں کی باتوں کا پڑھنا بشر طیکہ جس مذہب میں انسان داخل ہواس کی اسے پوری واقفیت حاصل ہو نہ صرف جائز ہے بلکہ نہایت ضروری اور مفید ہے۔بلکہ اگر کبھی فرصت ہو تو اس قسم کے ٹریکٹوں کو مساجد میں پڑھ کر سنا دینا چاہئے اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہئے کہ دوسروں نے یہ یہ اعتراض کیا ہے اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں۔مگر اس قسم کے ٹیکٹوں کا سنانا باقی تمام ضروریات پر مقدم نہیں کر لیتا چاہئے۔یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن کا درس چھوڑ دیا جائے ، حدیث کا درس چھوڑ دیا جائے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس چھوڑ دیا جائے ، اسی طرح اور وعظ ونصیحت کی باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور مخالف ٹریکٹوں کو سنانا شروع کر دیا جائے۔یہ سخت بد دیانتی ہے کہ انسان جس مذہب میں شامل ہو اس کے متعلق تو ابھی اسے پوری واقفیت حاصل نہ ہو اور دوسروں کے لٹریچر کو پڑھنے میں وہ مشغول ہو جائے۔تم پہلے اپنی جماعت کے لٹریچر کو پڑھو اور جب احمدیت کے عقائد، احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کے دلائل سے تم پوری طرح آگاہ ہو جاؤ تو پھر تمہارا حق ہے کہ دوسروں کی کتابوں کو بھی پڑھو اور اگر تمہیں اپنے مذہب کی تعلیم پر غور کرتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ تمہارا مذ ہب سچا نہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم سچائی کو کسی اور مذہب میں تلاش کرو تا کہ اگر تم سچ پر قائم نہیں تو کم از کم تم خدا سے یہ کہہ سکو کہ تم نے بیچ کو تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔میں اس بارہ میں