سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 24
۲۴ جماعت کو منظم کیا جائے گا اور ان سے وہی کام لیا جائے گا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے لیا گیا۔یعنی کچھ تو اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو تبلیغ کریں، کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو قرآن اور حدیث پڑھائیں، کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کریں کچھ اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ تعلیم وتربیت کا کام کریں، اور کچھ يزكيهم کے دوسرے معنوں کے مطابق اس بات پر مقرر کئے جائیں گے کہ وہ لوگوں کی دنیوی ترقی کی تدابیر عمل میں لائیں۔یہ پانچ کام ہیں جو لازماً ہماری جماعت کے ہر فرد کو کرنے پڑیں گے۔اسی طرح جس طرح جماعت فیصلہ کرے اور جس طرح نظام ان سے کام کا مطالبہ کرے۔جو شخص کسی واقعی عذر کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکتا۔مثلاً وہ مفلوج ہے یا اندھا ہے یا ایسا بیمار ہے کہ چل پھر نہیں سکتا۔ایسے شخص سے بھی اگر عقل سے کام لیا جائے تو فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔الا ماشاء اللہ۔مثلاً اسے کہہ دیا جائے کہ اگر تم کچھ اور نہیں کر سکتے ، تو کم سے کم دو نفل روزانہ پڑھ کر جماعت کی ترقی کے لئے دعا کر دیا کرو۔پس ایسے لوگوں سے بھی اگر کچھ اور نہیں تو دعا کا کام لیا جاسکتا ہے۔درحقیقت دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو کوئی نہ کوئی کام نہ کر سکے۔قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں وہی شخص زندہ رکھا جاتا ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں کام کر کے دوسروں کے لئے اپنے وجود کو فائدہ بخش ثابت کر سکتا ہے اور ادنیٰ سے ادنی حرکت کا کام جس میں جسمانی محنت سب سے کم برداشت کرنی پڑتی ہے، دعا ہے۔ہاں بعض کے کام بالواسطہ بھی ہوتے ہیں۔جیسے پاگل نہ دعا کر سکتے ہیں اور نہ کچھ کام کر سکتے ہیں۔ایسے لوگ صرف عبرت کا کام دیتے ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر نصیحت حاصل کرتے ہیں۔مگر ایسا معذور میرے خیال میں قادیان میں کوئی نہیں۔نیم فاتر العقل دو چار ضرور ہیں۔مگر پورا پاگل میرے خیال میں قادیان میں کوئی نہیں لیکن یہ لوگ بھی اتنا کام تو ضرور کر رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے عبرت کا موجب بنے ہوئے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اپنے مقام کو سمجھتے ہوئے ایسے رنگ میں کام کریں گے کہ ان میں سے کوئی بھی باغیوں کی صف میں کھڑا نہیں ہوگا۔اگر کوئی شخص ان مجالس میں سے کسی مجلس میں بھی شامل نہیں ہوگا، تو وہ ہرگز جماعت میں رہنے کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔پس ان مجالس میں شامل ہونا در حقیقت اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا عملی رنگ میں اقرار