سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 208
۲۰۸ اطفال الاحمدیہ آخر آپ کے ہی بچے ہیں اور خدام بھی کوئی علیحدہ وجود نہیں بلکہ آپ لوگوں کے ہی بیٹے اور بھائی ہیں۔پس جس طرح ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کرے۔اسی طرح انصار اللہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں اور نوجوانوں کے حالات اور ان کے اخلاق کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر خدانخواستہ ان میں کوئی کمزوری دیکھیں تو نرمی اور محبت کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اپنی ظاہری جد و جہد کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کو جذب کریں اور سب سے بڑھ کر اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں تا کہ ان کی فطرت کا مخفی نور چمک اٹھے اور دین کے لئے قربانی اور فدائیت کا جذبہ ان میں ترقی کرے۔اگر جماعت کے یہ تینوں طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری قومی زندگی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔افراد بے شک زندہ نہیں رہ سکتے لیکن قوم اگر اپنے آپ کو روحانی موت سے محفوظ رکھنا چاہے، تو وہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔پس کوشش کرو کہ خدا تمہیں دائمی روحانی حیات بخشے۔کوشش کرو کہ تم اپنے پیچھے نیک اور پاک نسلیں چھوڑ کر جاؤ تا کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہو۔تمہیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ہر زمانہ میں حالات کے بدلنے کے ساتھ خدمت دین کے تقاضے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔اس زمانہ میں عیسائیت کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔جس کے استیصال کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور کسر صلیب کا کام آپ کے سپر دفرمایا۔پس اس زمانہ میں سب سے بڑی نیکی خدائے واحد کے نام کی بلندی اور کفر شرک کی بیخ کنی کرنا ہے۔جس کے لئے جماعت کو مالی اور جانی ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔میں نے اس امر کو دیکھتے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے دوستوں سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر شخص کو سال بھر میں کم از کم ایک ہفتہ وقف کرنا چاہئے۔مجھے معلوم نہیں کہ جماعت نے عملی رنگ میں اس کا کیا جواب دیا اور صدرانجمن احمدیہ نے اس کی نگرانی کے لئے کیا کوششیں کی لیکن اگر ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہ کی ہو تو میں ایک دفعہ پھر آپ لوگوں