سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 194

۱۹۴ گھبراہٹ ہوتی ہے کہ تحریک جدید کا چندہ دو تین لاکھ روپے سالانہ ہوتا ہے اور وہ بھی بڑا زور لگا لگا کر۔حالانکہ کام کے لحاظ سے دو تین کروڑ بھی تھوڑا ہے۔صدرانجمن احمد یہ کا سالانہ چندہ دس گیارہ لاکھ روپیہ ہوتا ہے۔حالانکہ کام کے پھیلاؤ کو تو جانے دو، جو صدرانجمن احمدیہ کے ادارے ہیں ان کو بھی صحیح طور پر چلانے کے لئے ۳۰ ،۴۰ لاکھ چندہ ہونا چاہیئے۔مگر ۳۰ ،۲۰ لاکھ چندہ تو سبھی ہو گا جب جماعت چار پانچ گنے زیادہ بڑھ جائے۔مگر اب تو ہمارے مبلغ ایسے پست ہمت ہیں کہ جب کسی مبلغ سے پوچھا جائے تبلیغ کا کیا حال ہے۔تو یہ کہتا ہے۔جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔اس سال جماعت میں دو آدمی اور شامل ہو گئے ہیں۔اگر تبلیغ کی یہی حالت رہی تو کسی ایک ملک میں دو لاکھ احمدی بنانے کے لئے ایک لاکھ سال چاہئیں۔پس دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ کے حضور میں اتنا گڑ گڑاؤ اور اتنی کوششیں کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے تمہاری مدد کے لئے اتر آئیں۔انسانی زندگیاں محدود ہیں مگر ہمارا خدا ازلی ابدی خدا ہے۔اس لئے اگر وہ یہ بوجھ جو ہم نہیں اٹھا سکتے آپ اٹھا لے، تو فکر کی کوئی بات نہیں۔جب تک ہم یہ کام انسان کے ذمہ سمجھتے ہیں تب تک فکر رہے گا۔کیونکہ انسان تو کچھ مدت تک زندہ رہے گا پھر فوت ہو جائے گا۔مگر خدا تعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھالے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔یہ اسی کا کام ہے اور اسی کو سجتا ہے اور جب خدا تعالیٰ خود اس بوجھ کو اٹھالے گا تو پھر اس کے لئے زمانہ کا کوئی سوال نہیں رہے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صدیاں تعلق نہیں رکھتیں، ان کا تعلق تو ہمارے ساتھ ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ تو ازلی ابدی خدا ہے۔پس دعا ئیں کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھی اور مجھے بھی توفیق دے کہ ہم ثواب حاصل کریں لیکن جو اصل چیز ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ یہ بوجھ خود اٹھا لے تا کہ آئندہ ہمارے لئے کوئی فکر کی بات نہ رہے۔(خطاب فرموده ۱۸/ نومبر ۱۹۵۵ء۔بحوالہ الفضل ۱۵؍دسمبر ۱۹۵۵ء صفحه ۴)