سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 193

۱۹۳ بھی عیسائیوں نے ہی تھا۔مگر وہی آج ان کے زیادہ ہمدرد ہیں۔گویا ایک لمبی قربانی کے بعد ان کے دل بھی پیج گئے۔پس ہمیشہ ہی اسلام کی روح کو قائم رکھو، اس کی تعلیم کو قائم رکھو اور یا درکھو کہ تو میں نو جوانوں کی دینی زندگی کے ساتھ ہی قائم رہتی ہیں۔اگر آنے والے کمزور ہو جائیں تو وہ قوم گر جاتی ہے۔مگر کوئی انسان یہ کام نہیں کر سکتا صرف اللہ ہی یہ کام کر سکتا ہے۔انسان کی عمر تو زیادہ سے زیادہ ۶۰ ۸۰۰۷۰۰ سال تک چلی جائے گی مگر قوموں کی زندگی کا عرصہ تو سینکڑوں ہزاروں سال تک جاتا ہے۔دیکھو مسیح علیہ السلام کی قوم بھی دو ہزار سال سے زندہ ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ۳۰۰ سال سے زندہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ بڑھتی چلی جائے گی۔تم بھی ایک عظیم الشان کام کے لئے کھڑے ہوئے ہو۔پس اس روح کو قائم رکھنا، اسے زندہ رکھنا اور ایسے نوجوان جو پہلوں سے زیادہ جوشیلے ہوں، پیدا کرنا تمہارا کام ہے۔ایک بہت بڑا کام تمہارے سپرد ہے۔عیسائی دنیا کو مسلمان بنانا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے، جتنا عیسائی دنیا کو یہودیوں کا ہمدرد بنانا۔کیونکہ عیسائی دنیا کو ہمدرد بنانے میں تو صرف دماغ کو فتح کیا جاتا ہے لیکن عیسائیوں کو مسلمان بنانے میں دل اور دماغ دونوں کو فتح کرنا پڑے گا اور یہ کام بہت مشکل ہے۔پس دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے کام کو تا قیامت زندہ رکھو۔محاورہ کے مطابق میرے منہ سے ” تا قیامت“ کے الفاظ نکلتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں تا قیامت بھی درست نہیں۔قیامتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔پس میں تو کہوں گا کہ تم اسے ابدی زمانہ تک قائم رکھو کیونکہ تم از لی اور ابدی خدا کے بندے ہو۔اس لئے ابد تک اس نور کو جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے قائم رکھو اور محمدی نور کو دنیا میں پھیلاتے چلے جاؤ، یہاں تک کہ ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے لگ جائے اور یہ دنیا بدل جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر بھی آجائے۔میں بیمار ہوں زیادہ لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔اس لئے میں مختصر سی دعا کر کے رخصت ہو جاؤں گا۔میں نے اپنی مختصر تقریر میں خدام کو بھی نصیحت کر دی ہے اور انصار اللہ کو بھی۔مجھے امید ہے کہ دونوں میری مختصر باتوں کو یا د رکھیں گے۔اپنے اپنے فرائض کو ادا کریں گے اور اپنے اپنے علاقوں میں ایسے اعلیٰ نمونے پیش کریں گے کہ لوگ ان کے نمونے دیکھ کر ہی احمدیت میں داخل ہونے لگ جائیں۔مجھے تو یہ دیکھ کر