سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 191

۱۹۱ جماعت میں نمازوں۔دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا انصار اللہ کا کام ہے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج انصار اللہ کی پہلی میٹنگ ہے۔انصار کس جذبہ اور قربانی سے کام کرتے ہیں یہ تو آئندہ سال ہی بتا ئیں گے۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار الله کرتے ہیں اور اس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں۔جب کسی قوم کے دماغ ، دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔پس میں پہلے تو انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں، اس لئے جماعت میں نمازوں، دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تہجد ، ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہئے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے، جس میں تہجد ، دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی ہوتا ہے۔لیکن عام طور پر جوانی کے زمانہ میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے۔اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں لیکن اگر نو جوانی میں کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے۔پس ایک طرف تو میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونہ سے اپنے بچوں، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ