سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 190

190 کے بارہ میں ڈکٹیٹر شپ استعمال نہ کرتا تو تمہارا بھی یہی حال ہوتا۔نوجوانوں کو میں نے پکڑ لیا اور انصار اللہ کو یہ سمجھ کر کہ وہ بزرگ ہیں، ان میں سے بعض میرے اساتذہ بھی ہیں، چھوڑ دیا لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ خورد بین سے بھی کوئی انصار اللہ کا ممبر نظر نہیں آتا۔پس ناصر احمد کو میں انصار اللہ کا صدر مقرر کرتا ہوں۔وہ فوراً انصار اللہ کا اجلاس طلب کریں اور عہدہ داروں کا انتخاب کر کے میرے سامنے پیش کریں ( تین ماہ کے عرصہ میں خدام سے انصار اللہ میں جاکر ناصر احمد نے بھی کوئی کام نہیں کیا۔معلوم ہوتا ہے وہاں کی ہوا لگ گئی ہے ) اور پھر میر امشورہ لے کر انہیں از سر نو منظم کریں۔پھر خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی طرح انصار اللہ کا بھی سالانہ جلسہ کیا کریں لیکن ان کا انتظام اور قسم کا ہوگا۔اس جتماع میں کھیلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔کبڈی اور دوسری کھیلیں ہوتی ہیں۔انصار اللہ کے اجتماع میں درس القرآن کی طرف زیادہ توجہ دی جائے اور زیادہ وقت تعلیم و تدریس پر صرف کیا جائے۔(اقتباس از خطبه جمعه مورخہ ۷ نومبر ۱۹۵۴ء۔بحواله الفضل ۹رفروری ۱۹۵۵ء)