سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 189

۱۸۹ کہ وہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ کی تنظیم نو کے متعلق ہدایات (اقتباس از خطبه جمعه ) میں نے بتایا ہے کہ ناصر احمد اب انصار اللہ میں چلے گئے ہیں۔ان کے متعلق میں نے فیصلہ کیا ہے آئندہ انصار اللہ کے صدر ہوں گے۔اگر چہ میرا یہ حکم ” ڈکٹیٹر شپ کی طرز کا ہے لیکن اس ڈکٹیٹر شپ“ کی وجہ سے ہی تمہارا کام اس حد تک پہنچا ہے۔ورنہ تمہارا حال بھی صدر انجمن احمدیہ کی طرح ہی ہوتا۔ایک دفعہ ایک جماعت کی طرف سے ایک چٹھی آئی جو سیکرٹری مال کی طرف سے تھی۔انہوں نے تحریر کیا کہ ہمارے بزرگ ایسے نیک اور دین کے خدمت گزار تھے کہ انہوں نے دین کی خاطر ہر ممکن قربانی کی لیکن اب ہم جو ان کی اولاد ہیں ایسے نالائق نکلے ہیں کہ جماعت پر مالی بوجھ روز بروز زیادہ ہو رہا ہے لیکن ہم نے اپنا چندہ اتنے سالوں سے ادا نہیں کیا۔آپ مہربانی کر کے اپنا آدمی یہاں بھجوائیں، دوستوں کو ندامت محسوس ہو رہی ہے۔چنانچہ یہاں سے نمائندہ بھیجا گیا اور چند دن کے بعد اس کی طرف ایک چٹھی آئی کہ ساری جماعت یہاں جمع ہوئی اور سب افراد اپنی سستی اور غفلت پر روئے اور انہوں نے درخواست کی کہ پچھلا چندہ ہمیں معاف کر دیا جائے، آئندہ ہم باقاعدہ چندہ ادا کریں گے اور اس کام میں غفلت نہیں کریں گے۔کچھ عرصہ کے بعد پھر بقایا ہو گیا تو ایک اور چٹھی آگئی کہ مرکز کی طرف سے کوئی آدمی بھیجا جائے ، احباب میں ندامت پیدا ہوئی ہے۔چنانچہ ایک آدمی گیا ، تمام لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے گریہ وزاری کی اور یہ درخواست کی کہ پہلا چندہ معاف کیا جائے آئندہ ہم باقاعدہ چندہ ادا کریں گے۔غرض ہر تیسرے سال یہ چکر چلتا۔دو تین آدمی ایسے تھے جو باقاعدہ طور پر چندہ ادا کرتے تھے۔باقی کا یہی حال تھا۔اگر میں مجلس خدام الاحمدیہ