سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 187

۱۸۷ تو بہ قبول نہ ہو۔اسی طرح ہزاروں لوگ مارے جائیں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ گناہ کرتے ہیں تو پھر بعض اوقات بڑی سٹرگل (Struggle) کے بعد اس گناہ سے نجات حاصل کرتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرنے سے انکار کر دے تو کوئی شخص گناہ سے نجات حاصل نہ کرے تو بہ ضمیر کو روشن کرتی ہے اور انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس شخص نے تو بہ توڑ دینی ہے۔باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ پھر فساد کرے گا، لڑائی کرے گا ، گالیاں دے گا اور جھوٹ بولے گا وہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔گویا خدا تعالیٰ با وجود علم غیب رکھنے اور جاننے کے مجرم دوبارہ جرم کرے گا وہ اس سے حاضر والا معاملہ کرتا ہے۔لیکن ہم با وجود علم غیب نہ ہوئے کے خدا تعالیٰ سے مستقبل والا معاملہ کرتے ہیں۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور کیا ہوگی؟ ہمیں خدا تعالیٰ سے حاضر والا معاملہ کرنا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم جنگلوں میں رہیں تو ہمیں جنگلوں میں رہنا چاہئے اور اپنا کام کرتے چلے جانا چاہئے۔ہم چوہوں اور چیونٹیوں کو باہر پھینک دیتے ہیں تو وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔شہد کی مکھیوں کو دیکھ لو۔انسان ان کا تیار کیا ہوا شہد حاصل کر لیتا ہے اور انہیں دور پھینک دیتا ہے لیکن وہ وہیں اپنا کام شروع کر دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں کامیاب رہتی ہیں۔اگر وہ اس بات کا انتظار کرتی رہیں کہ انہیں پہلی جگہ ملے تو کام کریں تو ہزاروں چھتے مر جائیں۔اسی طرح اگر تمہیں اپنا گھر نہیں ملتا تو جس گھر میں خدا تعالیٰ نے تمہیں رکھا ہے، تمہیں اسی میں فوراً کام شروع کر دینا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ تمہیں واپس لے جائے تو وہاں جا کر کام شروع کر دو۔لیکن کسی منٹ میں بھی اپنے کام کو پیچھے نہ ڈالو۔مومن ہر وقت کام میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔گویا مومن کے لئے کام ختم کرنے کا وقت موت ہے۔آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے کہ اپنامرکز تعمیر کر لیا اور خدا کرے کہ انصار اللہ کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہو اور وہ اس حماقت کو چھوڑ دیں کہ قادیان واپس جانے کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں ہیں۔اس لئے قادیان ہمیں ضرور واپس ملے گی اور چونکہ قادیان ہمیں واپس ملے گی اس لئے ہمیں یہاں کوئی جگہ بنانے کی ضرورت نہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ قادیان کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ مکہ کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں ان سے زیادہ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں ظاہری معنوں کے لحاظ سے پوری نہیں ہوئیں۔اس لئے ہمیں بھی پتہ نہیں کہ آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔مکہ کے متعلق بھی بہت پیشگوئیاں موجود تھیں بلکہ ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے بعد