سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 181
کیا کارروائی کی ہے۔۱۸۱ دوسری چیز جس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ محنت کی عادت ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بہت سے نوجوانوں میں محنت کی عادت نہیں پائی جاتی۔ذرا بھی محنت کا کام ان کے سامنے آجائے تو وہ گھبرا جاتے اور اپنے فرض کے ادا کرنے میں کوتاہی سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔یہ ایک خطر ناک نقص ہے جو ان میں پایا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نظر آتا ہے کہ اگر وہ موقعہ آ گیا، جس میں دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں۔تو اس قسم کے لوگ خواہ اس وقت قربانی بھی کریں۔ان کی قربانی چنداں مفید نہیں ہو گی۔کیونکہ محنت سے گھبرانے والے اپنے فرائض منصبی کو ادا کرنے کی نسبت، آرام زیادہ پسند کرتے ہیں۔پس ہر جگہ کی جماعت کو، خصوصاً خدام الاحمدیہ کو میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ انصار اللہ سے مل کر ایسی کوشش کریں کہ ہر احمدی اپنے اوقات کو صحیح طور پر صرف کرنے کی عادت اپنے اندر پیدا کرے اور جو کام اس کے سپرد کیا جائے اس کے متعلق وہ کوئی بہانہ نہ بنائے۔بہانہ بنانا ایک خطر ناک چیز ہے جس سے قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ عادت اس سال ڈالنی چاہئے کہ جس شخص کو کسی کام پر مقرر کیا جائے ،اس کا فرض ہے کہ یا تو وہ کام پوری دیانتداری سے کرے۔یا اس کام کے لئے جو وقت مقرر ہے اس کے ختم ہونے پر اس کی لاش وہاں نظر آئے۔اس کی زبان چلتی ہوئی یہ عذر نہ کرے کہ میں فلاں وجہ سے یہ کام نہیں کرسکا۔جب تک یہ روح ہماری جماعت کے نوجوانوں میں پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ حقیقی قربانی پیش نہیں کر سکتے۔اسی طرح مردوں کو چاہئے کہ جہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں وہاں لجنہ اماءاللہ قائم کریں۔میرے پاس بہت سی عورتوں نے شکایت کی ہے کہ مردان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔بعض تو انہیں روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لجنہ کے جلسوں میں نہ جایا کرو اور بعض ایسے ہیں کہ اگر عورتیں لجنہ اماءاللہ قائم کرنا چاہیں تو وہ