سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 176

وقف جائیداد کی تحریک مرکزی مجلس انصار اللہ سے خطاب کا ملخص کل مرکزی مجلس انصار اللہ کی طرف سے مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس اور محترم السید منیر الحصنی صاحب کے اعزاز میں جو دعوت چائے دی گئی اس میں جناب شمس صاحب نے مجلس انصار کے خیر مقدم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ ذکر کیا کہ مختلف ممالک میں کام کرنے والے مبلغین کو سامان تبلیغ کی بے حد قلت ہے ورنہ تبلیغ کے لئے بہت وسیع میدان موجود ہے۔اس سلسلہ میں آپ نے اُس تحریک کا ذکر کیا جو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے وقف جائیداد کے متعلق جاری فرمائی ہے اور بتایا اسے کامیاب بنانے کی صورت میں دنیا میں عظیم الشان انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔اس کی طرف انصار کو توجہ کرنی چاہئے۔اس موقعہ پر حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔مبلغ بیرونی ممالک سے آتے بھی ہیں اور جاتے بھی۔جانے والوں کے لئے جماعت کے دل افسردہ بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی۔اسی طرح آنے والوں کے لئے خوشی بھی ہوتی ہے اور افسردگی بھی۔اس لئے کہ جہاں ان کا آنا خوشی کا موجب ہوتا ہے کہ وہ عزیزوں کے پاس آگئے وہاں یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی زندگی کا وہ دور جو انہیں بہت بڑے ثواب کا مستحق بنا رہا تھا وہ ختم ہو گیا یا اس کو تبدیل کر لیا گیا۔ہماری جماعت جس مقصد کے لئے قائم کی گئی ہے وہ اتنا بلند ، اتنا اعلیٰ اور اس قدر عظیم الشان ہے کہ اس کے حصول کے لئے جتنی کوشش کرنی چاہئے اور جس قدر سامان مہیا ہونا چاہئے اس کا ہزارواں چھوڑ لا کھواں حصہ بھی ابھی تک میسر نہیں آیا۔بے شک ہم تھوڑے ہیں اور کمزور لیکن اگر جماعت اپنی قوت کے مطابق کوشش کر دیتی تو یہ سنت اللہ ہے کہ جب ایک مامور کی جماعت اپنی ساری طاقت صرف کر دیتی ہے تو کامیابی کے لئے باقی جس