سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 13
۱۳ پاک کرے، یعنی دعاؤں کے ذریعے تزکیہ نفوس کرے یا یزکیھم کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگوں کو بڑھائے اگر وہ دنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میدان میں ان کو آگے لے جائے۔تعداد میں کم ہوں، تو تعداد میں بڑھائے۔مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھائے۔غرض جس رنگ میں بھی ہو، انہیں بڑھاتا چلا جائے۔گویا لوگوں کی مالی اور اقتصادی ترقی میں حصہ لے۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ان کو قرآن سکھائے۔وَالْحِكْمَةَ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ احکام شریعت کی حکمتوں اور ان کے اسرار سے لوگوں کا آگاہ کرے۔اس آیت کے اور بھی معنی ہیں جن کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی اس تقریر میں بیان کیا ہوا ہے جو خلافت کے آغاز میں میں نے کی تھی اور جو منصب خلافت“ کے نام سے چھپی ہوئی ہے لیکن یہ پانچ موٹی موٹی باتیں ہیں۔(۱) تبلیغ (۲) قرآن پڑھانا (۳) شرائع کی حکمتیں بتانا (۴) اچھی تربیت کرنا (۵) قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کر کے انہیں اس ترقی کے میدان میں بڑھانا۔یہ پانچ ذمہ داریاں صحابہ پر تھیں اور یہی پانچوں ذمہ داریاں ہم پر عائد ہیں۔تبلیغ ہمارے ذمہ ہے، تعلیم ہمارے ذمہ ہے،احکام کی حکمتیں بتانا ہمارے ذمہ ہے، اور جماعت کی مالی اور اقتصادی حالت کی درستی اور اس کی پستی کو دور کرنا ہمارے ذمہ ہے۔اگر ہم یہ پانچ کام نہیں کرتے تو ہم جھوٹے اور کذاب ہیں ، اگر ہم اپنے آپ کو صحابی کہتے ہیں۔انہی کاموں میں سے ایک کام کے متعلق میں نے کچھ عرصہ ہوا قادیان کی جماعت کو توجہ دلائی تھی اور میں نے کہا تھا کہ کم سے کم قادیان میں کوئی ان پڑھ نہیں رہنا چاہئے۔مگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے رپورٹ ملی ہے کہ جہاں باقی سب محلوں نے کام ختم کر لیا ہے۔وہاں مسجد فضل سے تعلق رکھنے والے تعاون نہیں کر رہے۔اس سے مراد دار الفضل والے نہیں۔بلکہ وہ محلہ ہے جسے محلہ ارائیاں بھی کہتے ہیں۔اس محلہ کے لوگ نہ تو نمازوں کے لئے باقاعدہ جمع ہوتے ہیں، نہ پڑھانے کے لئے جاتے ہیں اور نہ ہی پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔اسی طرح مجھے ہیں لوگوں کی ایسی لسٹ دی گئی ہے جنہیں اس محلہ کے ان پڑھوں کو تعلیم دینے کے لئے مقرر کیا گیا مگر کسی نے کوئی عذر کر دیا اور کسی نے کوئی اور جس نے مان بھی لیا وہ بھی پڑھانے کے لئے نہیں گیا اور جب ان میں سے بعض کو کہا گیا کہ تمہیں اس جرم کی سزا دی جائے گی تو ان میں سے دونے کہا ہم خدام الاحمدیہ سے استعفیٰ دے دیں گے۔مگر انہیں یا درکھنا چاہئے وہ خدام الاحمدیہ سے استعفی نہیں