سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 174

۱۷۴ يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک ہر انسان اپنے آپ کو کام کرتے کرتے فتانہیں کر دیتا، اس وقت تک قومی طور پر خدانظر نہیں آ سکتا۔انفرادی طور پر بے شک کدح کے بعد انسان کو لقاء الہی حاصل ہو جاتا ہے مگر قومی طور پر اسی وقت لقاء الہی کی نعمت حاصل ہوتی ہے، جب قوم کا ہر فرد اپنے آپ کو فنا کر دیتا ہے۔دنیا میں لقاء الہی دو طرح حاصل ہوتا ہے۔ایک فردی طور پر اور ایک قومی طور پر۔اگر قوم تباہ بھی ہو چکی ہوتب بھی فردی طور پر انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعثت سے قبل با وجود اس کے کہ مسلمان قومی طور پر تباہ و برباد ہو چکے تھے، ان میں بعض بزرگ پائے جاتے تھے۔مثلاً حضرت عبداللہ غزنوی کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ وہ بزرگ انسان تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مجدد صاحب بریلوی یا حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید اور اسی طرح بعض اور بزرگ گذرے ہیں۔مگر یہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے چند نفوس تھے جو خدا تعالیٰ سے ملے۔ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کے لئے بھیجا تھا کہ اسلام اب بھی اپنے اندر طاقت رکھتا ہے اور اب بھی وہ لوگوں کو زندہ کر سکتا ہے، اب بھی وہ انہیں خدا تعالیٰ کے دربار تک پہنچا سکتا ہے۔مگر قومی طور پر ان کے وجود سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔پس حضرت سید احمد صاحب بریلوی کیا تھے۔وہ در حقیقت حجت تھے ستوں پر۔وہ حجت تھے غافلوں پر اور وہ یہ بتانے کے لئے بھیجے گئے تھے کہ اسلام اب بھی اپنے اندر زندگی بخش اثرات رکھتا ہے۔اسی طرح حضرت سید اسمعیل صاحب شہید کیا تھے۔وہ حجت تھے ستوں پر۔وہ حجت تھے غافلوں پر اور وہ یہ بتانے کے لئے بھیجے گئے تھے کہ اسلام اب بھی اپنے اندر زندگی بخش اثرات رکھتا ہے۔مگر بحیثیت قوم اسلام کو ان کے وجود سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔کیونکہ اسلام نام تھا چالیس کروڑ افراد کا، جن میں سے کوئی چین میں رہتے تھے اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں ان لوگوں کی کوئی آواز نہیں پہنچی۔یوں ہماری جماعت بھی ابھی چھوٹی سی ہے مگر ہماری جماعت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔پس وہ لوگ صرف غافلوں پر حجت تھے اور اس بات کی دلیل تھے کہ خدا اب بھی لوگوں کو زندہ کر سکتا ہے ورنہ ان کے زمانہ میں قومی طور پر مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے چہرہ کو نہیں دیکھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ