سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 173
۱۷۳ انسان کو اتنی محنت کرنی پڑتی ہے کہ اس کی ہڈیوں تک اثر پہنچ جاتا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ لقاء الہی سے محروم رہ جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب انہیں ایمان نصیب ہو گیا تو کچھ دیر بیٹھ کر ایمان کی باتوں کا مزہ لے لینے اور نماز روزہ وغیرہ ادا کر لینے سے ہی ان کی روحانیت کامل ہو جائے گی۔حالانکہ روحانیت کامل ہوتی ہے اس غم کی وجہ سے جو عشق سے پیدا ہوتا ہے جس کے اثر سے انسان کی ہڈیاں تک گھل جاتی ہیں۔جب تک انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ رغبت پیدا نہ ہو۔یہ غم پیدا نہ ہو۔یہ عشق اور محبت پیدا نہ ہو۔اس وقت تک ملاقیہ کا مقام اسے میسر نہیں آ سکتا۔باقی نماز پڑھ لینا یا روزے رکھ کر یہ سمجھ لینا کہ میں نے بڑی مشقت برداشت کر لی ہے۔ایسی باتیں نہیں ہیں جو کدح میں شامل ہوں۔اس سے بہت زیادہ مشقت طلب کام لوگ کرتے ہیں۔چوڑھوں کو دیکھ لو وہ کتنی محنت کرتے ہیں۔دھوبیوں کو دیکھ لو وہ کس قدر مشقت کا کام کرتے ہیں۔سقوں کو دیکھ لو وہ کس قدر تکلیف برداشت کرتے ہیں۔مگر یہ نہیں ہوتا کہ اس کام سے ان کی ہڈیاں گھلنی شروع ہو جائیں۔کام کا جتنا اثر ہوتا ہے صرف جسم پر ہوتا ہے۔جو کچھ دیر کے بعد زائل ہو جاتا ہے۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کادح کا لفظ استعمال فرماتا ہے اور کدح اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان ایسا عمل کرے کہ یوں معلوم ہو جائے گا۔جب انسان اس رنگ میں کام کرتا ہے تب اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اس کے بغیر اس کا اپنی کامیابی کے متعلق امید رکھنا غلطی ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو اسی غرض کے لئے قائم کیا ہے کہ وہ محنت کریں اور مشقت طلب کاموں کی اپنے اندر عادت پیدا کریں۔جب تک انسان اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے نہیں بچاتا اسے خدا نہیں مل سکتا۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ جماعت میں مشقت طلب کاموں کی عادت پیدا ہو اور ہر فرد کسی نہ کسی کام میں مشغول رہے۔پس