سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 172

۱۷۲ جماعت میں مشقت طلب کاموں کی عادت پیدا کرنا خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کا اصل مقصد سورة إنشقاق کی آیت يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ (سورۃ الاشتقاق آیت) کے لغوی معنے بیان فرمانے کے بعد اس آیت کی تفسیر (بحوالہ تفسیر کبیر جلد ششم جز و جهارم نصف اول ص ۳۳۷۳۳۶) کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان تو پوری جدو جہد کرے گا۔پوری محنت کرے گا اپنے رب کی طرف جانے کی فَمُلَاقِيهِ اور آخر تو اس سے جا کر مل ہی جائے گا۔یہاں يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ میں یا تو عام قاعدہ بیان کیا گیا ہے اور یا اس سے مراد صرف وقت کا امام ہے یعنی یا تو اس سے یہ مراد ہے کہ اے انسان تیرے لئے اپنے رب سے ملنے کا رستہ کھلا ہے۔شرط یہ ہے کہ تیری طرف سے گذح ہونا چاہئے ان معنوں کے لحاظ سے ہر انسان اس میں شامل ہے اور یا پھر ہر انسان براہ راست اس میں شامل نہیں بلکہ کامل انسان کے تابع ہو کر شامل ہے اور معنی یہ ہیں کہ اے کامل انسان تو اپنے رب کو پانے کے لئے بڑی قربانیاں کرے گا اور آخر ایک دن اس کو پاہی لے گا اور جب کوئی کامل انسان اس کو پالیتا ہے تو پھر سب کو حکم ہو جاتا ہے کہ تم بھی اسی راستہ پر چلو اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرلو۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رستے کا ملنا معمولی بات نہیں ہوتی۔اس غرض کے لئے