سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 170
۱۷۰ ہیں مگر بڑے بڑے دریا ریت کے میدانوں میں جا کر خشک ہو جاتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ تمہارے اندر معرفت کا دریا بہ رہا ہے۔اگر تم میں سنتی ہم محنتی اور غفلت کا صحرا پیدا ہو گیا تو یہ دریا اس کے اندر خشک ہو کر رہ جائے گا۔چھوٹی چھوٹی ندیاں مبارک ہوں گی جو پہاڑوں کی وادیوں میں سے گذر کر میلوں میل تک چلتی چلی جاتی ہیں۔مگر تمہارا دریا نہ تمہارے لئے مفید ہوگا اور نہ دنیا کے لئے مفید ہو گا۔پس یہ آفت اور مصیبت ہے جس کو ٹلانا ضروری ہے۔اس آفت کو دور کرنے کے لئے پہلے میں جماعت کے دوستوں سے فرداً فرداً اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے بحیثیت جماعت مشورہ چاہتا ہوں۔انصار اللہ سے اس لئے کہ وہ باپ ہیں اور خدام الاحمدیہ سے بحیثیت نوجوانوں کی جماعت ہونے کے کہ ان پر ہی اس سکیم کا اثر پڑنے والا ہے اور ہر فرد سے جس کے ذہن میں کوئی نئی یا مفید تجویز ہو، پوچھتا ہوں کہ وہ مجھے مشورہ دے پھر میں ان سب پر غور کر کے فیصلہ کروں گا کہ آئندہ نسل کی اصلاح کے لئے ہمیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے۔(اقتباس از خطبه جمعه فرموده ۴ رمئی ۱۹۵۴ء بحواله الفضل ۱۱رمئی ۱۹۴۵ء صفحه۵) انصار اللہ سے مل کر ایسی کوشش کریں کہ ہر احمدی اپنے اوقات کو صحیح طور پر صرف کرنے کی عادت اپنے اندر پیدا کرے اور جو کام اس کے سپرد کیا جاہے اس کے متعلق وہ کوئی بہانہ نہ بنائے۔بہانہ بنانا ایک خطرناک چیز ہے جس سے قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ عادت اس سال ڈالنی چاہئے کہ جس شخص کو کسی کام پر مقرر کیا جائے ، اس کا فرض ہے کہ یا تو وہ کام پوری دیانتداری سے کرے یا اس کام کے لئے جو وقت مقرر ہے اس کے ختم ہونے پر اس کی لاش وہاں نظر آئے۔اس کی زبان چلتی ہوئی یہ عذر نہ کرے کہ میں فلاں وجہ سے یہ کام نہیں کر سکا۔جب تک یہ روح ہماری جماعت کے نوجوانوں میں پیدا نہ ہو اس وقت تک وہ حقیقی قربانی پیش نہیں کر سکتے۔اسی طرح مردوں کو چاہئے کہ جہاں لجنہ اماءاللہ قائم نہیں وہاں لجنہ اماءاللہ قائم کریں۔میرے پاس بہت سی عورتوں نے شکایت کی ہے کہ مردان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔بعض تو انہیں روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لجنہ کے جلسوں میں نہ جایا کرو اور بعض ایسے ہیں کہ اگر عورتیں لجنہ اماءاللہ قائم کرنا چاہیں تو وہ