سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 12
۱۲ قائم کی تھی۔مگر ان کی رپورٹ ہے کہ بعض نوجوان ایسے ہیں کہ جب ہم کوئی کام ان کے سپرد کرتے ہیں تو پہلا قدم ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کے کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یہ کام نہیں کر سکتے لیکن اگر زور دیا جائے تو وہ مان تو لیتے ہیں اور کہتے ہیں اچھا ہم یہ کام کریں گے۔مگر پھر دوسرا قدم ان کا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کرتے نہیں۔یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہم کریں گے۔کریں گے۔مگر عملی رنگ میں کوئی کام نہیں کرتے۔اس کے بعد جب ان کے لئے سزا مقرر کی جاتی ہے تو وہ اس سزا کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم استعفیٰ دے دیں گے ہمگر سزا برداشت نہیں کریں گے۔اس قسم کے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بچے احمدی نہیں۔کیا منافقوں کے سوا مخلص صحابہ میں سے تم کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہو کہ ان میں سے کسی نے کام کرنے سے اس طرح انکار کر دیا ہو۔یا کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس بات کو برداشت کیا ؟ پھر اس جماعت میں سے ایسا نمونہ دکھانے والوں کو ہم صحابہ کانمونہ کس طرح قرار دے سکتے ہیں ہم تو ان کو انہیں میں شامل کریں گے جو صحابہ کے زمانہ میں ایسے کام کرتے رہے ہیں۔یعنی منافق لوگ۔اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانے میں تلوار کا جہاد تھا اور آج تلوار کا جہاد نہیں لیکن ہر زمانہ کا جہاد الگ الگ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تلوار کا جہاد تھا اور ممکن ہے اس قسم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ اگر کسی وقت تلوار کے جہاد کا موقعہ آیا تو وہ سب سے آگے آگے ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں اگر کبھی تلوار کے جہاد کا موقعہ آیا تو ایسے لوگ سب سے پہلے بھاگنے والے ہوں گے۔پس جب وہ کہتے ہیں کہ یہاں کونسا تلوار کا جہاد ہورہا ہے۔اگر تلوار کا جہاد ہوتو وہ شامل ہو جائیں۔تو یا تو وہ اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہیں یا جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور میرے خیال میں تو وہ جھوٹ ہی بول رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مہینہ میں دودن دوکان بند کرنے کے لئے تو تیار نہ ہو اور وہ جہاد کے لئے سال میں سے آٹھ ماہ گھر سے باہر رہ سکتا ہے۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس زمانہ میں کس قسم کے جہاد کی ضرورت ہے، خدا کا کام ہے اور یہ خدا کا اختیار ہے، کہ وہ چاہے تو ہمارے ہاتھ میں تلوار دے دے۔چاہے تو قلم دے دے اور چاہے تو تبلیغ اور تعلیم وتربیت کا جہاد مقرر کر دے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں تلوار کا جہاد نہیں رکھا۔بلکہ تبلیغ اور تعلیم وتربیت کا جہا درکھا ہے اور یہی وہ جہاد ہے جس کا سورہ جمعہ کی ان آیات میں ذکر ہے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِہ میں ہر مومن کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے نشانات الہیہ کو بیان کرے، یعنی انہیں تبلیغ کرے۔پر تیهِمُ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ انہیں