سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 156
۱۵۶ ملا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی وجہ سے ملا ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق قرآن کریم سے پیدا ہوتا ہے۔یہ ہمیں حضرت مرزا صاحب نے بتایا ہے۔اصل سبق تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا لیکن اسے مسلمان بھول گئے تھے۔حضرت مرزا صاحب نے آکر اسے دوبارہ تازہ کیا اور کہا کہ قرآن پر عمل کرو اور دعائیں کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور سمجھو کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہیں خدا تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ایک شعر ہے کہ یعنی ہر ایک نیکی کی جڑ اگر جڑ رہی سب ہے کچھ رہا ہے تمام نیکیاں تقویٰ سے پیدا ہوتی ہیں اگر تقوی باقی رہے تو ایسے انسان کو کوئی چیز ضائع نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دوسرے بزرگوں کی مثالیں موجود ہیں کہ کبھی مومن خدا تعالیٰ کے فضل سے مصائب اور آفات سے نہیں ڈرتے مثلاً حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق مشہور ہے کہ آپ کے حاسدوں نے آپ کے خلاف بادشاہ کے کان بھرے اور وہ آپ سے بدظن ہو گیا اور آپ کو سزا دینے پر تیار ہو گیا لیکن اس نے کہا میں ابھی جنگ کے لئے باہر جارہا ہوں۔واپس آؤں گا تو انہیں سزا دوں گا۔جب وہ واپس آ رہا تھا تو حضرت نظام الدین اولیاء کے مرید آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے بادشاہ واپس آ رہا ہے، آپ کوئی سفارش اس کے پاس پہنچائیں تا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے فرمایا۔ہنوز دلی دور است ابھی دلی بہت دور ہے۔جب وہ دلی کے اور قریب آ گیا تو مریدوں نے پھر بتایا حضور اب تو بادشاہ بالکل قریب آگیا ہے اور اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صبح دلی میں داخل ہو جائے گا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے پھر فرمایا کہ ” ہنوز دلی دور است ابھی دلی بہت دور ہے۔چنانچه مرید خاموش ہو کر واپس چلے گئے۔رات کو بادشاہ کے بیٹے نے شہر کے باہر والے محل پر ایک بہت بڑا جشن کیا۔ہزاروں لوگ اس جشن میں شرکت کے لئے آئے اور وہ محل کی چھتوں پر چڑھ گئے۔چھت کا کچھ حصہ بوسیدہ تھا اس لئے وہ اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکا اور گر پڑا۔بادشاہ اور اس کے ساتھی چھت کے نیچے بیٹھے تھے۔اس لئے وہ اس کے نیچے ہی دب گئے اور مر گئے۔چنانچہ صبح بجائے اس کے کہ بادشاہ شہر میں