سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 150
۱۵۰ دائی ہوگی اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور قیامت تک نہ کوئی نبی رہ سکتا ہے اور نہ کوئی خلیفہ رہ سکتا ہے۔ہاں خلافت قیامت تک رہ سکتی ہے۔نظام قیامت تک رہ سکتا ہے۔پس یہاں قدرت ثانیہ سے خلافت ہی مراد ہے کیونکہ خلیفہ تو فوت ہو جاتا ہے لیکن خلافت قیامت تک جاسکتی ہے۔اگر جماعت ایک خلیفہ کے بعد دوسرا خلیفہ مانتی چلی جائے اور قیامت تک مانتی چلی جائے تو ایک عیسائیت کیا ہزاروں عیسائیتیں بھی احمدیوں کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتیں۔کیونکہ ہمارے پاس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دیا ہوا دلائل و براہین کا وہ ذخیرہ ہے، جو کسی اور قوم کے پاس نہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ آپ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کر دیں۔اب وہ زمانہ جب اسلام تمام دنیا پر غالب ہو گا، کسی ایک آدمی کی کوشش سے نہیں آ سکتا۔بلکہ اس کے لئے ایک لمبے زمانہ تک لاکھوں آدمیوں کی جدوجہد کی ضرورت ہے۔پس یہ کام صرف خلافت کے ذریعہ ہی پورا ہو سکتا ہے لیکن اس کا سارا کریڈٹ صرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملے گا۔جن کے دئے ہوئے ہتھیار ہم استعمال کرتے ہیں۔باقی باتیں محض خوشہ چینی ہیں۔جیسے کوئی شخص کسی باغ میں چلا جائے اور اس کے پھل کھالے۔تو وہ پھلوں کا مزہ تو اٹھالے گا لیکن اصل مزہ اٹھانا اس کا ہے، جس نے وہ باغ لگایا۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص سل کے عارضہ سے بیمار ہو گیا۔اس نے بہتیرا علاج کرایا مگر اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔جب ڈاکٹروں نے اسے لا علاج قرار دے دیا، تو وہ اپنے وطن واپس آ گیا۔وہ شخص وزیر آباد کے قریب سڑک پر جارہا تھا کہ اسے ایک پہلوان ملا جومتکبرانہ طور پر سڑک پر چل رہا تھا۔اس نے اس عام دستور کے مطابق کہ پہلوان اپنا سر منڈا لیتے ہیں۔تا کہ کشتی میں ان کا مد مقابل ان کے بال نہ پکڑے اپنے بال منڈائے ہوئے تھے۔اس بیمار شخص کی حالت بہت کمزور تھی لیکن اس پہلوان کو دیکھ کر اسے شرارت سوجھی اور اس نے آہستہ سے جا کر اس کے سر پر ٹھینگا مارا۔اس پر اس پہلوان کو غصہ آ گیا اس نے سمجھا کہ اس شخص نے میری ہتک کی ہے۔چنانچہ اس نے اسے ٹھڈوں سے خوب مارا۔جب وہ اسے ٹھڈے مار رہا تھا۔تو وہ کہتا جاتا تھا کہ تو جتنے ٹھڈے چاہے مارے جتنا مزہ مجھے اس ٹھینگا مارنے میں آیا ہے، تجھے ٹھڈوں میں نہیں آسکتا۔اسی طرح جو مزہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل میں آیا ہے۔وہ عیسائیت کو اپنی طاقت کے زمانہ میں بھی نہیں آیا۔دیکھ لوعیسائی ہم پر حاکم تھے اور ہم کمزور اور ماتحت رعا یا تھے۔ہمارے پاس نہ تلوار تھی اور نہ کوئی مادی طاقت لیکن خدا تعالیٰ کا ایک پہلوان آیا اور اس نے ہمیں وہ دلائل دئے کہ جن سے اب ہم امریکہ، انگلینڈ اور