سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 144
۱۴۴ آپ ہمیشہ اس عہد پر قائم رہیں گے کیونکہ اللہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔اس پر موت نہیں آتی۔اس لئے آپ کے عہد پر کبھی موت نہیں آنی چاہئے۔چونکہ موت سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا، اس لئے انصار اللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تک آپ زندہ رہیں گے، اس عہد پر قائم رہیں گے اور اگر آپ مر گئے تو آپ کی اولاد اس عہد کو قائم رکھے گی۔یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا۔اور اگر اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کو اس بات کی توفیق دے دے۔تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ توفیق مل جائے کہ ہم عیسائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک خلافت کو قائم رکھ سکیں۔خلافت کو زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم سلسله ایسی مضبوط رہے کہ تبلیغ احمدیت اور تبلیغ اسلام دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہوتی رہے جو بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ کوئی ایک آدمی اس بات کی توفیق نہیں رکھتا کہ وہ ہالینڈ، انگلینڈ، جرمنی ، سپین، فرانس، سکنڈے نیویا، سوئٹزرلینڈ اور دوسرے ممالک میں مشنری بھیج سکے۔یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جب ایک تنظیم ہو اور کوئی ایسا شخص ہو جس کے ہاتھ پر ساری جماعت جمع ہو اور وہ آنه آنه، دو دو آنه، چار چار آنه، روپیه دو روپیه جماعت کے ہر فرد سے وصول کرتا رہے اور اس دود و آنہ، چار چار آنہ اور روپیہ دورو پیر سے اتنی رقم جمع ہو جائے کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہو سکے۔دیکھو عیسائیوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے۔وہ اس وقت ۶۰ کروڑ کے قریب ہیں۔پوپ جو عیسائی خلیفہ ہے، اس نے اس وقت یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ہر عیسائی سال میں ایک ایک آنہ بطور چندہ دیتا ہے اور اس کو عیسائی پوپ آنہ (Pope's penny) کہتے ہیں اور اس طرح وہ پونے چار کروڑ روپیہ جمع کر لیتے ہیں لیکن آپ لوگ باوجود اس کے کہ اتنا بوجھ اٹھاتے ہیں کہ کوئی اپنی ماہوار تنخواہ کا ۲ فیصدی چندہ دیتا ہے اور کوئی دس فیصدی چندہ دیتا ہے اور پھر بارہ ماہ متواتر دیتا ہے۔آپ کا چندہ پندرہ ہیں لاکھ بنتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعداد عیسائیوں سے بہت تھوری ہے۔اگر