سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 9
۹ دوست یہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کامل حل اور امتی نبی ہیں۔اور وہی شریعت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی اسی کو دوبارہ قائم کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔اور دوسری طرف جماعت کا ایک حصہ صحابہ کے طریق عمل کی جگہ ایک نئی راہ پر چلنا چاہتا ہے اور اس راستہ کو اختیار ہی نہیں کرتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اختیار کی۔گویا ان کی مثال بالکل شتر مرغ کی سی ہے کہ جہاں درجوں اور انعامات کا سوال آتا ہے وہاں تو کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی الگ وجود نہیں۔بلکہ آپ کی بعثت در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی بعثت ثانیہ ہے اس وجہ سے جو صحابہ کا مقام وہی ہما را مقام۔چنانچہ وہ اس قسم کے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں آتا ہے ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔(الواقعہ آیت 40-41) کہ جیسے اولین میں سے ایک بہت بڑی جماعت نے خدا کا قرب حاصل کیا اسی طرح آخرین خدا کی بہت بڑی رحمتوں کے مستحق ہوں گے۔پس جیسے صحابہ کی جماعت تھی ویسی ہی ہماری جماعت ہے جیسے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولی سے مستفیض ہوئے ، اسی طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت ثانیہ سے مستفیض ہوئے۔پس ہم میں اور صحابہ میں کوئی فرق نہیں۔مگر جب قربانی کا سوال آتا ہے تو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے۔گویا وہ بالکل شتر مرغ کی طرح ہیں۔جو اپنی دونوں حالتوں سے فائدہ تو اٹھالیتا ہے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔کہتے ہیں کسی شتر مرغ سے کسی نے کہا کہ آؤ تم پر اسباب لادیں۔کیونکہ تم شتر ہو (شتر کے معنی اونٹ ہیں اور مرغ کے معنی ہیں پرندہ ) وہ کہنے لگا، کیا پرندوں پر بھی کسی نے اسباب لا دا ہے؟ اس نے کہا، اچھا تو پھر اڑ کر دکھاؤ۔وہ کہنے لگا، کبھی اونٹ بھی اڑا کرتے ہیں۔پس جس طرح شتر مرغ اڑنے کے وقت اونٹ بن جاتا ہے اور اسباب لا دتے وقت پرندہ۔اسی طرح ہماری جماعت کا جو حصہ کمزور ہے، کرتا ہے۔جب قربانی کا وقت آتا ہے تو وہ کہتا ہے ہمارا حال اور ہے اور صحابہ کا حال اور مگر جب درجوں اور انعامات اور جنت کی نعماء کا سوال آتا ہے