سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 129
۱۲۹ کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ ۶۰ ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص سال میں ایک ایک سور روپیہ بھی مساجد کے لئے دے تو ۶۰ لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور ۶ لاکھ سے ہیں مساجد بن سکتی ہیں۔اس رویاء سے میں نے سمجھ لیا کہ اب خدا تعالیٰ اپنے فضل سے زمینداروں میں ہماری جماعت پھیلانا چاہتا ہے اور وہ بھی ایسے زمینداروں میں جو کم سے کم ایک سو روپیہ سالانہ مساجد کے لئے دے سکیں۔مثلاً ہمارے ہاں مربعوں کے ٹھیکوں کی آمد تین تین چار چار ہزار روپیہ ہے اور زمینداروں کا خرچ بہت کم ہوتا ہے۔اگر وہ خود کام کریں تو تین چار ہزار کی بجائے وہ چھ سات ہزار روپیہ کما سکتے ہیں اور اس میں سے ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دینا کوئی بڑی بات نہیں چنانچہ میں خواب میں کہتا ہوں کہ اب یہ لوگ ساٹھ ہزار ہو جائیں گے اور اگر ایک ایک سو روپیہ بھی یہ لوگ مساجد کے لئے دیں تو ۶۰ لاکھ ہو جائے گا۔اس کے بعد یکدم وہ آدمی تو میری نظروں سے غائب ہو گئے۔لیکن جانوروں کا ایک ٹھنڈ اُڑتا ہوا میرے سر پر سے گذرا۔وہ جانور موسمی معلوم ہوتے ہیں۔جیسے مرغابیاں ہوتیں ہیں۔یہ جانور ایک خاص ترتیب کے ساتھ چلتے ہیں۔میری نظر ان جانوروں پر پڑی اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ بھی کیسی قدرتوں والا ہے۔اس نے ایسے جانور پیدا کئے ہیں کہ وہ ہیں تو انسانوں سے ادنی مگر ان کی تنظیم انسانوں سے اعلیٰ ہے۔اگر کوئی ایسا ذریعہ نکلے کہ ہم انسانوں میں بھی ان مرغابیوں والی تنظیم پیدا کر سکیں تو دنیا کو فتح کرنا ہمارے لئے کتنا آسان ہو جائے۔گویا اس خواب کے دو حصے تھے۔پہلا حصہ زمینداروں والا تھا اور دوسرا حصہ جانوروں والا ہے وہ مرغابیاں ہیں یا کوئی اور جانور ہیں میں نہیں جانتا، مگر ہیں فصلی جانور۔وہ اس ترتیب سے اڑتے جار ہے ہیں کہ ایک آگے ہے اور دوسرے پیچھے ہیں۔یہ بات عام طور پر مگھوں ، سرخابوں، کونجوں اور مرغابیوں میں پائی جاتی ہے۔میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کیسا قادر خدا ہے کہ ہم تو آج پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ خصلت اور صفت ان میں آدم علیہ السلام کے زمانے سے پائی جاتی ہے اور ابتداء سے اس نے جانوروں کے دماغ میں ایسا علم بھر دیا ہے کہ جس کے ماتحت وہ ہمیشہ ایک تنظیم کے ساتھ اڑتے ہیں۔اگر انسانوں کے اندر بھی ہم یہ تنظیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو جماعت احمد یہ با وجود تھوڑے ہونے کے ساری دنیا پر غالب آسکتی ہے۔اس وقت بھی ہماری تنظیم ہی ہے، جس کی وجہ سے گو ہماری جماعت بالکل غریب ہے، مگر پھر بھی اس کا سالانہ چندہ تحریک جدید اور