سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 127
۱۲۷ بھجوا دیا جائے۔یہ نمونہ تو ہم میں ابھی نظر نہیں آتا بلکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ اس کام میں عیسائی ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔شاید اس لئے کہ ان کو انیس سو سال ہو گئے ہیں اور ہمیں ابھی اتنے سال نہیں ہوئے۔مگر بہر حال جوانی میں زیادہ جوش ہونا چاہئے۔ہم امید کرتے ہیں کہ عنقریب ہماری عورتیں ان سے بھی زیادہ جوش دکھلائیں گی۔بعض مثالیں بے شک ہماری جماعت میں اچھی ملتی ہیں۔مثلاً ایک دفعہ ایک غیر ملکی طالب علم یہاں آیا۔اس نے کہا کہ میری شادی یہاں کرا دیں۔میں نے کسی خطبہ یا مجلس میں ذکر کیا کہ اس طرح ایک غیر ملکی کی خواہش ہے۔تو ایک لڑکی آئی اور اُس نے کہا کہ میں تیار ہوں آپ میرا نکاح اس غیر ملکی سے کر دیں۔اس کے بعد اس کی بہن آئی اور میری بیوی سے کہنے لگی کہ میری بہن تو منہ پھٹ ہے۔وہ خود آکر کہہ گئی ہے لیکن میں نے ابھی تک اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔حالانکہ میں تین چار سال سے اس بات کے لئے تیار ہوں کہ میری کسی غیر ملکی سے شادی کر کے مجھے باہر بھیج دیا جائے۔آخر ان میں سے ایک بہن کی اس سے شادی ہوگئی اور اب وہ دلی میں ہے۔ابھی کل ہی اس کے ہاں لڑکی پیدا ہونے کی خبر چھپی ہے۔صالح الشسیمی ہمارے ایک غیر ملکی احمدی نوجوان ہیں۔پچھلے سال ان سے اس کی شادی ہوئی اور اب ان کے ہاں دلی میں لڑکی پیدا ہوئی ہے۔تو اس قسم کی مثالیں تو احمد یوں میں پائی جاتی ہیں۔لیکن یہ زیادہ شاندار مثال ہے کہ ایک عورت ماری گئی اور اس کے کباب کھائے گئے اور جب اخباروں میں اعلان کیا گیا کہ اس کی جگہ لینے کے لئے اور عورتیں اپنے آپ کو پیش کریں تو شام تک ۲۰ ہزار عورتوں کی تاریں آگئیں کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں۔بہر حال اس سے ملتی جلتی بعض کمزور مثالیں تو ہم میں پائی جاتی ہیں، لیکن زیادہ شاندار اور اچھی مثالیں ان میں پائی جاتی ہیں۔اسی طرح ہمارا ایک مبلغ افریقہ گیا تھا۔واپس آکر ایک لڑکی سے اس نے شادی کرنی چاہی۔اس کی پہلے ایک شادی ویسٹ افریقہ میں ہو چکی تھی۔اب ایک غیر ملکی مبلغ سے شادی کرنا ، جب کہ اس کی ایک بیوی پہلے موجود ہو اور جب کہ اس ملک میں اتنا رواج ہو کہ لوگ ڈیڑھ ڈیڑھ سو بیویاں کرتے ہوں، بڑی قربانی چاہتا ہے مگر وہ لڑکی راضی ہوگئی۔چنانچہ اب وہ افریقہ پہنچ چکی ہے۔اس نے بڑی محبت سے اپنی سوکن کے بچوں کو یہاں پالا۔وہ مبلغ افریقہ سے یہاں آیا تھا اور اپنی ایک پہلی بیوی کو بھی یہاں لایا تھا اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔وہ لڑکی اپنے خاوند کی پہلی بیوی کا بھی خیال رکھتی رہی اور اس کے بچوں کا بھی خیال رکھتی رہی۔گوان میں سے ایک بچہ بعد میں بھاگ گیا۔اب وہ میرے ایک بھتیجے کی بیوی کے ساتھ مل کر انگلستان کے رستہ سے اپنے خاوند کے پاس پہنچ گئی ہے۔تو اس قسم کی مثالیں تو ہم میں موجود ہیں مگر اس شان کی نہیں جس شان کی عیسائیوں