سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 8
Δ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ اسی کام کو چلائے جس کام کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چلایا۔کیونکہ فرماتا ہے۔وَاخْرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ اللہ تعالیٰ اسے آخرین میں بھی مبعوث کرے گا جو بھی پیدا نہیں ہوئے۔گویا محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوبارہ بعثت ہوگی اور یہ ظاہر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کام نہیں ہو سکتے۔وہی کام جو آپ نے پہلے زمانہ میں کئے وہی آخری زمانہ میں کریں گے اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح ناصری کے بھی ظل یا مثیل تھے۔مگر آپ سے ان کو صرف ظلیت کا تعلق تھا تا بعیت کا نہیں۔کیونکہ گو آپ کو نام مسیح کا دیا گیا تھا، کام آپ کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا سپر د کیا گیا تھا۔جیسا کہ سورہ جمعہ سے ثابت ہے۔پس حضرت مسیح موعود کو جو مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہے وہ زیادہ شدید ہے بہ نسبت اس کے جو آپ کو مسیح ناصری سے حاصل ہے۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار پس ہماری جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاتی ہے، اس کے افراد کو یہ امرا چھی طرح یا د رکھنا چاہیئے کہ یا تو وہ یہ دعوی کریں کہ حضرت مرزا صاحب کو وہ کوئی ایسا نبی سمجھتے ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع اور آپ کی غلامی سے آزاد ہو کر مقام نبوت حاصل کیا ہے۔اس صورت میں وہ بے شک کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارا نبی آزاد ہے اس لئے ہم نئے قانون بنائیں گے اور جو کام ہماری مرضی کے مطابق ہوگا وہی کریں گے۔اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کریں گے۔پس اگر ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ ہمارا نبی مستقل ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور آپ کے احکام کی اتباع سے آزاد ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت نہیں۔جو باتیں ہمیں اچھی لگیں گی اور جو ہماری مرضی کے مطابق ہوں گی ،صرف ان میں حصہ لیں گے باقی کسی میں حصہ نہیں لیں گے لیکن اگر ہمارا یہ دعوئی ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سورہ جمعہ کے مطابق امتی نبی ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ رسولا ہیں جن کی نبوت ورسالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت شامل ہے تو پھر ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کام کئے ، وہی کام مسیح موعود کے سپرد ہیں اور جو کام صحابہ نے کئے وہی کام جماعت احمدیہ کے ذمہ ہیں مگر میں تعجب سے دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو ہماری جماعت کے