سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 7
دونوں باتیں ان میں پائی جاتی ہوں گی۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایا ہے کہ میں امتی نبی ہوں۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقطہ نگاہ سے میں امتی ہوں مگر تم لوگوں کے نقطہ نگاہ سے میں نبی ہوں۔جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے اسی طرح مجھ ایمان لانا ضروری ہوگا۔جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی ہے اس طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہوگی۔مگر جب میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مونہہ کر کے کھڑا ہوں گا تو اس وقت میری حیثیت ایک امتی کی ہوگی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر فرمان میرے لئے واجب التعمیل ہوگا اور آپ کی رضا اور خوشنودی کا حصول میرے لئے ضروری ہوگا۔گویا جس طرح ایک ہی وقت میں دادا اور باپ اور پوتا اکٹھے ہوں تو جو حالت ان کی ہوتی ہے وہی محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔ایک باپ جب اپنے باپ کی طرف مونہ کرتا ہے تو وہ باپ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن وہی باپ جب اپنے بیٹے کی طرف مونہہ کر کے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی حیثیت باپ کی ہو جاتی ہے اور بیٹے کا فرض ہوتا ہے کہ اس کا ہر حکم مانے۔بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تم اپنے باپ کی طرف منہ کر کے کھڑے تھے تو اس وقت تمہاری حیثیت بیٹے کی تھی نہ کہ باپ کی تو اب تمہاری حیثیت باپ کی کس طرح ہو سکتی ہے۔کیونکہ اب اس کا منہ اپنے باپ کی طرف نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی طرف ہوگا۔یہی حیثیت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی عطا فرمائی ہے۔وہ امتی بھی ہیں اور نبی بھی وہ نبی ہیں ہم لوگوں کی نسبت سے اور وہ امتی ہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے۔عیسی علیہ السلام نبی تھے ، موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے بھی۔صرف اپنی امت کی طرف مونہہ کر کے ہی نبی نہیں تھے۔اسی طرح داؤد نبی تھے موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے بھی۔صرف اپنی امت کی طرف مونہہ کر کے نبی نہیں تھے۔اسی طرح سلیمان ذکریا اور بیچی نبی تھے موسیٰ کی طرف مونہہ کر کے بھی۔یہ نہیں کہ صرف اپنی امت کی طرف مونہ کر کے نبی ہوں اور موسیٰ" کی طرف مونہہ کر کے امتی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ یہ عجیب قسم کی نبوت جاری ہوئی کہ ایک ہی نبی جب ہماری طرف مخاطب ہوتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے اور جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوتا ہے تو امتی بن جاتا ہے اور وہ کسی ایسے کام کا دعویدار نہیں ہو سکتا جو