سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 124
۱۲۴ قرآن کریم میں احمدی خواتین کا ذکر اس اعتبار سے انصار اللہ کی ذمہ داری مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے تیسرے سالانہ اجتماع سے خطاب تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔وَالنَّازِعَاتِ غَرْقاً وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطاً - وَالسَّابِحَاتِ سَبْحاً - فَالسَّابِقَاتِ سَبْقاً - فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً - يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ -تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ - أَبْصَارُهَا خَاشِعَة - (سورة النزعت آیات ۲ تا ۱۰) اس کے بعد فرمایا۔یہ آیات جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ، ہم اب تک ان کے صرف ایک ہی مفہوم پر زور دیتے رہے ہیں۔حالانکہ ان کے اندر بعض اور مضامین بھی پائے جاتے ہیں گذشته مفسرین تو ان آیات کے یہ معنے کرتے رہے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کا ذکر ہے۔کیونکہ فرشتہ کے لئے مونث کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں چونکہ سارے صیغے مونث کے استعمال کئے گئے ہیں۔اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں کا ذکر ہے۔لیکن ہم یہ کہتے ہیں یہ آیات فرشتوں پر چسپاں ہی نہیں ہوسکتیں۔اس لئے کہ وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ان میں ہے ہی نہیں۔غرقا کے معنے اگر جسمانی غرق کے سمجھیں تو فرشتے کون سے تالاب میں غوطہ مارا کرتے ہیں اور اگر اس کے معنے روحانی سمجھیں، تو غَرُقًا کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ علوم میں محو ہو کر نئے نئے نکتے نکالتے ہیں اور فرشتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں جن باتوں کا علم دیا جانا ضروری تھا، ان کا انہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہے اور جنہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہو، انہوں نے محو کیا ہونا ہے۔انہیں تو محو ہونے کے بغیر ہی علم مل چکا ہے۔چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں