سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 116
١١٦ خلافت کو قائم رکھا جائے تبلیغ اسلام کو قائم رکھا جائے ،تحریک جدید کو مضبوط کیا جائے، اشاعت اسلام کے لئے جماعت میں شغف زیادہ ہو اور دنیا کے کسی کونہ کو بھی بغیر مبلغ کے نہ چھوڑا جائے۔مجھے بیرونی ممالک سے کثرت سے چٹھیاں آرہی ہیں کہ مبلغ بھیجے جائیں۔اس لئے ہمیں تبلیغ کے کام کو بہر حال وسیع کرنا پڑے گا اور اتنا وسیع کرنا پڑے گا کہ موجودہ کام اس کے مقابلہ میں لاکھواں حصہ بھی نہ رہے۔میں نے بتایا ہے کہ خلافت کی وجہ سے رومن کیتھولک اس قدر مضبوط ہو گئے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے پڑھا کہ ان کے ۵۴لا کھ مبلغ ہیں۔ان سے اپنا مقابلہ کرو اور خیال کرو کہ تم سو ڈیڑھ سو مبلغوں کے اخراجات پر ہی گھبرانے لگ جاتے ہو۔اگر تم ان سے تین چار گنے زیادہ طاقت ور بنا چاہتے ہو، تو ضروری ہے کہ تمہارا دو کروڑ مبلغ ہو۔لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہمارے سب مبلغ ملالئے جائیں۔تو ان کی تعداد دوسو کے قریب بنتی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ عیسائیوں کو مسلمان کر لیں۔بدھوں کو مسلمان کر لیں۔شنٹوازم والوں کو مسلمان کر لیں۔کفیوشس ازم کے پیروؤں کو مسلمان کر لیں۔تو اس کے لئے دو کروڑ مبلغوں کی ضرورت ہے اور ان مبلغوں کو پیدا کرنا اور پھر ان سے کام لینا بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتا۔ہمارے ملک میں ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ جب مرنے لگا۔تو اس نے اپنے تمام بیٹوں کو بلایا، اور انہیں کہا۔ایک جھاڑ ولا ؤ۔وہ ایک جھاڑ ولے آئے۔اس نے اس کا ایک تنکا انہیں دیا اور کہا اسے توڑو اور انہوں نے اسے فورا تو ڑ دیا۔پھر اس نے سارا جھاڑ وا نہیں دیا کہ اب اسے توڑو۔انہوں نے باری باری پورا زور لگایا مگر وہ جھاڑو ان سے نہ ٹوٹا۔اس پر اس نے کہا۔میرے بیٹو دیکھو میں نے تمہیں ایک ایک تنکا دیا۔تو تم نے اسے بڑی آسانی سے توڑ دیا۔لیکن جب سارا جھاڑو تمہیں دیا تو با وجود اس کے تم نے پورا زور لگایا، وہ تم سے نہ ٹوٹا۔اسی طرح اگر تم میرے مرنے کے بعد بکھر گئے تو ہر شخص تمہیں تباہ کر سکے گا لیکن اگر تم متحد رہے تو تم ایک مضبوط سوٹے کی طرح بن جاؤ گے جسے دنیا کی کوئی طاقت تو ڑ نہیں سکے گی۔اسی طرح اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا تو تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور تمہیں دشمن کھا جائیگا۔لیکن اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔تم دیکھ لو۔ہماری جماعت کتنی غریب ہے لیکن خلافت کی وجہ سے اسے بڑی حیثیت حاصل ہے اور اس نے وہ کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلمان نہیں کر سکے۔مصر کا ایک اخبار الفتح ہے جو سلسلہ کا شدید مخالف ہے۔اس میں ایک دفعہ کسی نے مضمون لکھا کہ گذشتہ ۱۳۰۰ سال میں مسلمانوں