سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 115
۱۱۵ ابدی ہے۔اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں۔ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔اسی لئے میں نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہ اطفال اور خدام آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی۔تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہوگی۔میں نے سیڑھیاں بنادی ہیں۔آگے کام کرنا تمہارا کام ہے۔پہلی سیڑھی اطفال الاحمدیہ ہے۔دوسری سیڑھی خدام الاحمدیہ ہے۔تیسری سیڑھی انصار اللہ ہے اور چوتھی سیڑھی خدا تعالیٰ ہے۔تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرو اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگو تو یہ چاروں سیٹرھیاں مکمل ہو جائیں گی۔اگر تمہارے اطفال اور خدام ٹھیک ہو جائیں اور پھر تم بھی دعائیں کر اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلو۔تو پھر تمہارے لئے عرش سے نیچے کوئی جگہ نہیں اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔دنیا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ سو دو سوفٹ پر حملہ کر سکتی ہے۔وہ عرش پر حملہ نہیں کرسکتی۔پس اگر تم اپنی اصلاح کر لو گے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو گے تو تمہارا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہو جائے گا اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔عیسائیوں کی تعداد تو تمام کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباً دو گنی ہوئی ہے۔مگر تمہارے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تعدا کو اتنا بڑھا دے گا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دوسرے تمام مذاہب ہندو ازم ، بدھ مت، عیسائیت اور شنٹو ازم وغیرہ کے پیرو تمہارے مقابلہ میں بالکل ادنی اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔یعنی ان کی تعداد تمہارے مقابلہ میں ویسی ہی بے حقیقت ہوگی۔جیسے آج کل ادنی اقوام کی دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ہے۔وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے یقیناً آئے گا۔لیکن جب آئے گا۔تو اس کے ذریعہ سے آئے گا کہ