سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 35 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 35

62 61 کے بارہ میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت مدینہ کے دوران فرمایا تھا۔کہ سراقہ تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب کسری کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔عراق کے گورنر کے طور پر خدمات اور کوفہ کی تعمیر عراق ایک سرے سے دوسرے سرے تک فتح ہو چکا تھا۔حضرت عمرؓ نے مجھے آگے پیش قدمی سے روک دیا اور فرمایا کہ اس علاقے کے انتظام اور انصرام کی طرف توجہ دوں اور حضرت عمرؓ نے مجھے عراق کا گورنر بنا دیا۔میں نے سارے ملک میں امن اور انصاف قائم کیا۔لوگ اسلام کو قریب سے دیکھ کر اس کے حسن سے بے حد متاثر ہوئے اور فوج در فوج لوگ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے جن میں بڑے بڑے رؤساء بھی شامل تھے میں نے عراق کی مردم شماری کروائی اور سارے ملک کا سروے کروایا اور رعایا کی ترقی و خوشحالی کے منصوبے بنائے۔نیز نو مسلموں کی تربیت کے لئے مساجد تعمیر کروائیں اور قرآن کریم کے درس جاری کروائے۔مدائن کی آب و ہوا عربوں کے موافق ی تھی۔حضرت عمرؓ کو ہمارا بہت خیال رہتا تھا۔آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ عرب کی سرحد پر کوئی مناسب جگہ تلاش کر کے وہاں ایک نیا شہر آباد کروں۔جہاں پانی کافی مقدار میں ہو اور میرے اور اس کے درمیان کوئی دریا یا پل نہ ہو۔میں نے دریائے فرات سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر حیرا کے پاس ایک سرسبز و شاداب جگہ کا انتخاب کیا اور اس شہر کی بنیاد رکھی جس کا نام ” کوفہ رکھا گیا۔اس شہر میں ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی جس میں چالیس ہزار مسلمانوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش تھی۔مسجد کے ارد گرد ہر قبیلے کے لئے الگ الگ محلہ بنایا گیا۔مسجد کے قریب ایوان حکومت تعمیر ہوا جو " قصر سعد" کے نام سے مشہور ہوا۔کوفہ میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی چھاؤنی بن گئی جس میں