سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 28 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 28

48 47 کسری فارس کے بدا را دے اور عراق میں جہاد کا آغاز کسری فارس اور اس کے کارندے عرب کے علاقہ یمن، عمان اور بحرین کے مالک بن بیٹھے تھے اور ان کے زیر اقتدار برائے نام عرب روساء حکمران تھے عراق کی حددو میں بھی عربوں کی حکومت مٹاکر فارسیوں نے اندرون عرب بھی پیش قدمی شروع کر دی تھی اور حجاز کو بھی وہ اپنا ہی غلام سمجھتے تھے۔یمن، عمان اور بحرین اسلام قبول کر چکا تھا۔یہ علاقہ ہاتھوں سے نکلتا ہوا دیکھ کر اور خیبر کے یہودیوں اور مدینہ کے منافقوں کے بھڑکانے پر فارس کی حکومت نے عرب پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا۔ان دنوں بنو بکر کا ایک قبیلہ جو عراق کی سرحد پر آباد تھا اور فارسیوں سے برسر پیکار رہتا تھا مسلمان ہو گیا۔اس کے سیردار کا نام منی بن حارثہ تھا۔اب ان کی تمام تر وفاداریاں اسلام کے ساتھ تھیں۔مثنی بن حارثہ نے حضرت ابوبکر کی خدمت میں فارسیوں کے بدار ا دوں کی خبریں پہنچائیں اس وقت ایران (فارس) کے پایہ تخت پر ایک خاتون پوران دخت حکمران تھی۔ایران کے حالات خود اس کے قابو سے باہر حضرت ابوبکر نے حالات کا جائزہ لے کر فارس (ایران) کی عظیم سلطنت کے بدار ا دوں اور سرحدی قبائل پر ان کے حملوں کی روک تھام کے لئے عراق کے اس حصے کے خلاف جہاد کرنے کا فیصلہ کیا جو عرب کی سرحد کے ساتھ دریائے فرات تک پھیلا ہوا تھا اور اس کام کے لئے حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالار مقرر کیا اور ثنی کے لوگوں کو ان کے ماتحت جہاد میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔آنحضرت ﷺ نے چند سال پہلے جنگ موتہ کے حوالے سے خالد بن ولید کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا تھا۔حضرت خالد بن ولید کی ایرانیوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں۔فارس کی فوج اپنے زمانہ کی سب سے طاقتور فوج شمار ہوتی تھی ان کے پاس اس زمانہ کے بہترین ہتھیار تھے۔ان کے بالمقابل اسلامی فوج میں معمولی تجربہ رکھنے والے لوگ تھے اور ان کے پاس سامان بھی برائے نام ہی تھا۔لیکن انہیں خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ تھا اور آنحضرت ﷺ کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں پر کامل یقین تھا۔خالد بن الولید کی ایرانیوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں ان کی قیادت میں مسلمانوں کو غیر معمولی کامیابیاں نصیب ہوئیں۔وہ ایک سال کے عرصہ میں عراق کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک تیز طوفان کی طرح چھا گئے۔خالد کی افواج کا مقابلہ اپنے سے کئی گنا زیادہ افواج سے ہوتا رہا لیکن ہرلڑائی میں انہیں فتح نصیب ہوئی اور عراق کی جنگوں نے خالد بن الولید کو بہت مشہور کر دیا۔عراق کی سرزمین مسلمان افواج کے گھوڑوں کی ٹاپوں اور اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی ایرانی عوام نے مسلمانوں کی آمد کو خیر و برکت کا موجب سمجھا انہیں مسلمانوں سے امن انصاف اور خوشحالی نصیب ہوئی۔فوج در فوج لوگ اپنی مرضی سے اسلام میں داخل ہوئے۔جنگ سلاسل جنگ دریا، جنگ وجہ جنگ البس، فتح مغیشیاء، سلطنت حیرا کی فتح ، وسطی عراق کی فتح ، انبار اور عین التمر کی فتوحات اور فراض کی فتح حضرت خالد بن الولید کے کارنامے ہیں۔