سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 29 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 29

50 49 فراض پر روم اور فارس کی سرحدیں آپس میں ملتی تھیں۔اس دوران رومیوں کے ساتھ شام میں محاذ کھلا ہوا تھا۔حضرت ابو بکر نے خالد بن ولید کو نصف فوج مثنی کے پاس عراق میں چھوڑ کر باقی نصف فوج سمیت شام کے محاذ پر جانے کا ارشاد فرمایا۔عراق کی سرزمین پرشنی بن حارثہ کے پاس تقریباً 9 ہزار فوج رہ گئی تھی۔حضرت خالد بن ولید مئی 634ء میں نصف فوج لے کر شام کی طرف گئے تھے اور ایک انتہائی صحرا میں سے گذر کر چند دنوں میں شام میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح سے جاملے تھے جہاں دمشق کی فتح پر وہ سپہ سالار اعظم رہے حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو آپ نے کسی حکمت کے تحت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو ( جو عشرہ مبشرہ میں تھے ) شام کے محاذ پر سالا را عظم بنا دیا اور خالد بن الولید نے ریٹائر منٹ تک ان کے ماتحت کام کیا۔ایران کے ساتھ فیصلہ کن جنگیں اسلامی فوج کے نصف حصہ کے شام کے محاذ پر چلے جانے کے بعد ایران (عراق) کے ساتھ محاذ آرائی کا نیا دور شروع ہوا۔ایرانیوں نے اسلامی فوج کے نصف حصہ کے چلے جانے سے فائدہ اٹھانا چاہا اور مسلمانوں کے مفتوحہ علاقے واپس لینے کے لئے زبردست تیاریاں شروع کر دیں۔عراق کے محاذ پر اب مثنی بن حارثہ سپہ سالار تھے وہ دربار خلافت میں مدینہ حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کو عراق میں نازک صورتحال پیدا ہونے کی اطلاع دی۔اس وقت حضرت ابو بکر سخت بیمار تھے۔آپ نے حضرت عمر کو اپنے بعد خلیفہ بنانے کی وصیت کی۔آپ نے عمر کو نصیحت فرمائی کہ منی کو مدد دے کر عراق روانہ کریں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ چند دنوں بعد 22 جمادی الاول سنہ 13 ھ (22 اگست 634ء) کو وفات پاگئے اور وصیت کے مطابق حضرت عمرؓ بن الخطاب خلیفہ ہوئے۔حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کے ایک اجتماع میں عراق کے حالات پر منی سے تقریر کروائی اور جہاد کی تحریک فرمائی۔بنو ثقیف کا ایک مسلمان ابوعبیدہ بن مسعود ایمان کے جوش میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے عرض کی۔امیر المومنین ! اس کام کے لئے میں حاضر ہوں“۔ابو عبیدہ کو دیکھ کر ہزاروں مسلمان عراق کے جہاد میں شریک ہونے کے