سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 21
34 33 غزوہ تبوک فتح مکہ کے بعد حنین اور طائف کی جنگوں میں بھی مجھے آنحضرت علی کے ساتھ شامل ہونے کا موقع ملا۔یہودیوں کے انگیخت کرنے پر شام کی سرحد پرسنہ 9ھ میں سخت خطرہ محسوس ہوا۔آنحضرت ﷺ نے 30 ہزار کا لشکر تیار کیا۔رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اس سے بڑا الشکر کبھی تیار نہیں ہوا تھا۔صحابہ نے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔حضرت ابو بکر گھر کا سارا سامان لے آئے۔الله صلى الله مدینہ سے شام کی سرحد کے پاس تبوک تک سفر کیا گیا با قاعدہ جنگ کی نوبت نہ آئی۔کیونکہ دشمنی کا خطرہ عارضی طور پر ٹل گیا حضور سرحدی علاقوں میں آباد عرب قبائل کے ساتھ امن کے معاہدے کر کے واپس مدینہ تشریف لے آئے۔حجتہ الوادع کے موقع پر میری بیماری کے دوران حضور کی نصائح اور بشارات علوم نو دس سال مسلسل جنگ اور سفروں میں رہنے کی وجہ سے بعض اوقات ہم کیکر کے پتوں اور اس کے پھل یا انگور کی بیل کے پتوں کو کھا کر گزارہ کرتے تھے جس سے میری صحت خراب ہوگئی۔چنانچہ سنہ 10 ھ میں آنحضرت ﷺ نے جو ج فرمایا وہ حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔میں بھی حضور ﷺ کے ہمراہ مدینہ سے مکہ گیا اور وہاں جا کر بیمار ہو گیا۔حضور ﷺ کوخبر ہوئی تو میرے پاس تشریف لائے۔میں نے یہ خیال کر کے کہ شاید میری وفات قریب ہے آپ ﷺ کے سامنے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اپنے پیچھے اپنا سارا مال خدا کی راہ میں وقف کرنا چاہتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہ زیادہ ہے میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔میں نے دو تہائی کی اجازت چاہی مگر آپ ﷺ نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔آخر میں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی اور فر مایا اگر تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو منی چھوڑ جاؤ گے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں ایسی حالت میں چھوڑو کہ وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔دراصل یہ نصیحت سب مسلمانوں کے لئے تھی اور میرے لئے بھی تھی۔آپ ﷺ نے کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔جو کام تم خدا تعالیٰ کی خاطر کرو گے اس کی وجہ سے ثواب اور وو