سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 30 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 30

52 51 لئے تیار ہو گئے حضرت عمرؓ نے ابو عبیدہ کو سپہ سالار بنا کر عراق بھیج دیا میشنی اور ان کی ساری فوج اب ابو عبیدہ بن مسعود کے ماتحت تھی۔ایران کے وزیر اعظم رستم کوعلم ہوا تو اس نے سرحدی علاقوں میں بغاوت کروادی اور دو زبر دست لشکر تیار کئے۔ابوعبیدہ دریائے فرات عبور کر کے ایرانی فوجوں کے بہت نزدیک پہنچ گئے اور ایرانیوں کو بری طرح شکست دی۔رستم نے ایک اور سپہ سالار کے ماتحت فوج تیار کر لی جس میں تین سو ہاتھی بھی تھے دریائے فرات کے اس پار جنگ ہوئی۔ابو عبیدہ بڑی بہادری سے لڑے لیکن ہاتھیوں کی یلغار سے ایک ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کچل کر شہید ہو گئے اسلامی جھنڈ انثنی نے سنبھال لیا اور بڑی جرات کا مظاہرہ کیا اس دوران دشمن نے دریا کا پل تو ڑ دیا تا کہ مسلمان واپس نہ جاسکیں اور انہیں نیست و نابود کر دیا جائے لیکن مسلمان دشمن کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔حضرت شنی نے کمال حکمت سے حالات کو مزید نہ بگڑنے دیا پل کی تعمیر کروائی اور اسلامی فوج کو پل کے اس طرف لانے میں کامیاب ہو گئے تا ہم چھ ہزار مسلمان اس جنگ میں شہید ہو گئے۔یہ جنگ جنگ جسر یعنی پل والی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو حضرت عمر اور تمام مسلمانوں کو البوعبیدہ اور باقی مسلمان شہداء کا بہت افسوس ہوا۔حضرت عمرؓ نے جنگ جسر کا بدلہ لینے کے لئے تمام عرب میں جہاد کا اعلان کروایا۔ہزاروں مسلمان بلکہ بعض عیسائی سردار بھی ہزاروں آدمی لے کر مسلمان فوج میں شامل ہو گئے۔حضرت عمر نے منی بن حارثہ کو سپہ سالار مقرر کیا۔ان کا اب ایک لاکھ سے زائد ایرانیوں سے مقابلہ ہوا ایرانی فوج میں آگے زرہ پوش تھے۔پھر جنگی ہاتھی اور ان پر تیرا انداز سوار تھے۔دائیں اور بائیں سواروں کے دستے تھے۔حضرت مثنیٰ نے مسلمانوں کے آگے نہایت ایمان افروز تقریریں کیں اور پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دشمن پر ٹوٹ پڑے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ایک لاکھ کے قریب ایرانی اس جنگ میں مارے گئے۔صرف ایک سو مسلمان شہید ہوئے۔حضرت مثنی بری طرح زخمی ہوئے۔جس جگہ یہ جنگ لڑی گئی اس جگہ کا نام بویب تھا۔اس لئے یہ جنگ جنگِ بویب“ کے نام سے مشہور ہوئی۔بویب کی شکست کے بعد ایرانیوں نے پوران دخت کو معزول کر دیا اور کسری فارس کے پایہ تخت پر خسرو پرویز کے پوتے یزدگرد (یزدجرد) کو بٹھا دیا۔جنگ بویب کی زبر دست شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایرانی متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور عراق کے مسلمان علاقوں میں بغاوت کے شعلے بھڑ کا دیئے۔حضرت مثنیٰ نے دربارِ خلافت میں اطلاع دی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا !خدا کی قسم اگر ملک عجم نے اتحاد کر لیا ہے تو میں ان کے مقابلہ کے لئے ملوک عرب کو بھیجوں گا۔حضرت عمرؓ نے سارے عرب میں ایران میں جہاد کے لئے لوگوں کو تحریک فرمائی لا تعداد لوگ لبیک کہتے ہوئے مدینہ حاضر ہو گئے۔میں بھی بنو ہوازن سے تین ہزار جنگجو لے کر حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔حضرت عمرؓ کا خیال تھا کہ وہ اب خود فوج لے کر ایرانیوں کے ساتھ جنگ لڑیں گے۔لیکن بعض صحابہؓ کے مشورہ سے انہوں نے مجھے ایرانیوں کی