سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 31
54 53 اس خطر ناک جنگ کا سپہ سالار بنا کر بھیجا جو انتہائی خوفناک جنگ کسری فارس اور اسلامی فوجوں کے درمیان لڑی جانے والی تھی۔حضرت عمرؓ نے مجھے روانہ کرتے وقت بعض نصائح فرمائیں اور فرمایا کہ:۔تم اسی طریقہ کو مضبوطی سے اختیار کرو جس پر محمد رسول اللہ علی 66 بعثت سے رحلت تک قائم رہے۔اب کوئی معمولی جنگ نہیں ہوئی تھی۔سارا ایران متحد ہو کر مسلمانوں کو پیس ڈالنے کے لئے تیار ہو بیٹھا تھا۔اس جنگ کی نازک صورت حال کے باعث حضرت عمر نے شام سے اس فوج کو بھی بلوالیا جو عراق سے شام کو بھیجی گئی تھی اور اس وقت جس کی قیادت حضرت خالد بن ولید کر رہے تھے۔لیکن اب انہیں اس عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا تھا۔میں قادسیہ کے مقام پر پہنچا اس دوران حضرت مثنیٰ وفات پاچکے تھے۔انہیں بویب کی جنگ میں بہت گہرے زخم آئے تھے اور ان زخموں کی تاب نہ لا کر وفات پاگئے۔جس سے مجھے اور تمام مسلمانوں کو بہت دکھ ہوا۔میں نے مثنی کی بیوہ سے نکاح کر لیا۔اب تک اسلامی فوج کی تعداد تمیں ہزار تک پہنچ چکی تھی۔میدان جنگ میں پہنچ کر میں نے سارے حالات حضرت عمر کو تحریر کئے اور حضرت عمرؓ نے مزید ہدایات مجھے لکھ کر بھجوائیں اور فرمایا کہ مجھے دشمن کی نقل و حرکت کی اس طرح اطلاع دو کہ گویا آپ خود سے دیکھ رہے ہوں۔جس فوج میں سپہ سالار بنایا گیا تھا اس میں چھ سو کے قریب آنحضور ﷺ کے صحابہ شامل تھے اور ستر کے قریب وہ صحابہؓ بھی شامل تھے صلى الله علوم جو بدر کی جنگ میں شامل تھے۔اور صحابہ میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور تین سو کے قریب وہ صحابہ شامل تھے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت علی کے ہمراہ تھے۔اور بیعت رضوان میں شامل ہوئے تھے۔اس طرح چھ سو صحابہ میں سے تین سوستر خاص صحابہ ہوئے اور باقی دوسو تیں دوسرے صحابہ تھے۔اور سات سو کے قریب صحابہ کی اولاد میں سے تھے۔غرض یہ وہ تمام لوگ تھے جو خدا کی نگاہ میں اس وقت بہت محبوب لوگ تھے اور جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے بطور خاص تربیت پائی تھی۔ہمارے مقابلے کے لئے کسری فارس یزدگرد نے ایران کے نہایت مشہور اور بہادر شخص کو جو آرمینہ کے رئیس فرخ زاد کا بیٹا تھا اور وزیر اعظم یا وزیر دفاع تھا اور جس کا نام رستم تھا اڑھائی لاکھ فوج دے کر اس کا سپہ سالار مقرر کیا۔میں نے حضرت عمرؓ کو ایرانی فوج کی اطلاع بھجوائی حضرت عمرؓ نے مجھے خط لکھا اور فرمایا:۔تم ایرانی فوجوں کی کثرت اور ان کے ساز وسامان کی فروانی سے مت گھبراؤ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو جو ہمارا حقیقی کارساز ہے اور اسی سے مدد مانگو۔جنگ سے پہلے چند صائب الرائے بہادر اور وجاہت والے لوگ چن کر کسری کے دربار میں بھجواؤ جو اس کو اسلام کی دعوت دیں۔انشاء اللہ اس دعوت سے ایرانیوں کے ارادے ست ہو جائیں گے اور اگر کسری ایران دعوت اسلام کو رڈ کر دے گا تو اس کا وبال بھی اسی کی گردن پر ہوگا۔وو میں نے چودہ آدمیوں پر مشتمل ایک سفارت کو نعمان کی سربراہی میں