سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 18
28 27 غزوہ حمراء الاسد یہ غزوہ اُحد کے اگلے دن پیش آیا۔آنحضرت ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش نے فیصلہ کیا ہے کہ لوٹ کر مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے (نعوذ باللہ ) الله آنحضرت ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد اعلان کروایا کہ وہ لوگ جو کل ہمارے ساتھ تھے اور غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے۔وہ دشمن کی تلاش میں آپ کے ساتھ مدینہ سے نکلیں۔اکثر صحابہ زخمی حالت میں تھے۔لیکن سب نے صلى الله اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔آپ ﷺ صحابہ کو لے کر مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد کے مقام تک تشریف لے گئے اور وہاں تین دن قیام فرمایا۔دشمن پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اسے لوٹ کر حملہ کی جرأت نہ ہوئی۔میں بھی اس اہم سفر میں شامل تھا۔غزوہ خندق الله سنہ 5ھ میں قریش مکہ عرب کے تمام قبائل کو اکٹھا کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے ان کی تعداد دس سے بیس ہزار تک ہوگی۔ہم نے مدینہ کے باہر ایک گہری اور چوڑی خندق کھود کر دفاع کیا۔تین ہزار مسلمانوں نے خندق کھودنے میں حصہ لیا ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔خندق کھودنے کے بعد عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو آنحضرت ﷺ نے واپس اپنے گھروں میں بھجوا دیا اور محاذ جنگ پر بارہ سو مسلمان رہ گئے۔جب مدینہ کے یہودیوں کی طرف سے اندرون شہر خطرہ محسوس ہوا تو آنحضرت ﷺ نے پانچ سو مجاہدین کو عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھجوا دیا اور محاذ جنگ پر صرف سات سو مسلمان رہ گئے۔ہم سخت خطرے میں تھے۔لیکن ہمت نہیں ہاری ایک ماہ تک محاصرہ جاری رہا بیچنے کی کوئی امید نہ تھی۔لیکن آنحضرت ﷺ کی اضطراری دعاؤں نے کام کیا آندھی چلی دشمن کے خیموں میں آگ لگ گئی اور وہ ڈر گئے سب سے پہلے ان کا سپہ سالا راعظم ابوسفیان بدحواس ہو کر میدان جنگ سے بھاگا۔اسے دیکھ کر سب قبائل بھاگ گئے۔مجھے بھی اس جنگ میں شامل ہونے کا موقع ملا۔