سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 12
16 15 مدینہ میں خوف کی راتیں اور محمد رسول اللہ علی اللہ حفاظت کے لئے پہرہ مدینہ میں دو عرب قبائل اوس اور خزرج رہتے تھے۔جن میں سے بعض لوگ ایمان لے آئے اور انصار کے نام سے موسوم ہوئے۔اس کے علاوہ مدینہ میں تین یہودی قبائل بنو قریظہ بنو قینقاع اور بنو نضیر آباد تھے۔عرب قبائل پر یہودیوں کا کافی اثر تھا۔اور وہ اوس و خزرج پر اکثر مظالم کرتے تھے۔اوس اور خزرج نے شام کی سرحد پر غسان کے حاکم کی مدد سے یہودیوں کو سزا دلوائی اور یہود کا زور ٹوٹ گیا۔یہود کا زور ٹوٹ جانے کے بعد اوس اور خزرج آپس میں لڑنے لگے اور وسیع پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوگئی۔اوس اور خزرج کے درمیان آخری خون ریز جنگ جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔یہ جنگ حضرت محمد رسول اللہ علیہ کے زمانہ نبوت میں ہوئی جب کہ آپ علیہ مکہ میں مقیم تھے۔جنگ بعاث کے بعد قبیلہ خزرج کے ایک سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا حاکم تسلیم کر لیا گیا اور ہنوز تاج پوشی کی رسم ہونے والی تھی تو یہ انقلاب عظیم رونما ہو گیا کہ اوس اور خزرج کے کئی لوگ اسلام لے آئے اور حضرت محمد ﷺ مدینہ تشریف لے آئے جہاں آپ کو حاکم تسلیم کر لیا گیا اس کے نتیجے میں عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی حسد کی آگ میں جلنے لگے۔آنحضرت ﷺ نے مدینہ پہنچ کر عربوں اور یہود کے تمام قبائل کے ساتھ جو مدینہ میں آباد تھے امن سے رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ صلى الله دینے کا معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔اس دوران قریش مکہ نے مدینہ کے رئیس اعظم عبد اللہ بن ابی بن سلول کو خط لکھا اور کہا کہ مدینہ والے محمد ( ﷺ ) کو مدینہ سے نکال دیں ورنہ وہ مدینہ پر حملہ کر کے ان کے مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں پر قبضہ کر لیں گے۔عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی پہلے ہی حسد کی آگ میں جل رہے تھے۔ادھر قبیلہ اوس کا ایک رئیس ابو عامر جو عیسائیت کی طرف مائل تھا اسلام دشمنی میں مدینہ چھوڑ کر مکہ چلا گیا اور قریش کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے اکسانے لگا۔اسی طرح عبد اللہ بن ابی بن سلول اور ابو عامر کے ساتھی اندر ہی اندر شرارتوں پر آمادہ ہو گئے۔قریش مکہ خانہ کعبہ کے متولی تھے اور سارے عرب کے مذہبی لیڈر شمار ہوتے تھے۔وہ باقی عرب قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانے لگے اور اس طرح مدینہ میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔دشمن کے اچانک حملے سے ہوشیار رہنے کے لئے صحابہ دن رات مسلح رہتے تھے اور انہیں راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔خود آنحضرت ﷺ راتوں کو جاگتے رہتے۔میں چپکے چپکے آنحضرت ﷺ کا پہرہ دیتا رہتا۔ایک رات آنحضرت عمل بہت دیر تک جاگتے رہے اور پھر فرمایا کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کوئی مناسب آدمی پہرہ دیتا تو میں ذرا سولیتا۔اس دوران آپ ہی ہے نے ہتھیاروں کی چھنکار سنی۔آپ علیہ نے پوچھا کون ہے؟۔میں نے عرض کیا رسول اللہ ﷺ میں سعد بن ابی وقاص ہوں اور حضور علیہ کے پہرے کے لئے حاضر ہوں۔اس پر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور مجھے ” مرد صالح کہ کر پکارا۔اس صلى الله الله صلى الله۔کے بعد حضور علی تھوڑی دیر کے لئے سو گئے اور میں آپ ﷺ کا پہرہ دیتا رہا۔صل الله