سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ

by Other Authors

Page 24 of 41

سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 24

40 39 1 - فارس کی عظیم سلطنت سے محاذ آرائی اور دار الحکومت مدائن کی فتح اسلامی ریاست کے ساتھ دنیا کی دو عظیم سلطنتوں کی حدیں ملتی تھیں۔عظیم مملکت فارس 2 - عظیم مملکت روما - فارس کا بادشاہ کسری فارس (Chosroes) اور روما کا بادشاہ قیصر روم (Heraclius) کہلاتا تھا۔آدھی آدھی دنیا پر دونوں کی حکومت تھی فارس کا صوبہ عراق اور یمن اسلامی ریاست عرب سے ملحق تھے اور شمال اور مشرق میں واقع تھے۔مغرب کی سرحد کے ساتھ شام کا صوبہ تھا جور وما کی عظیم سلطنت کا ایک اہم صوبہ تھا۔عراق عرب کے شمال میں واقع عظیم مملکت فارس کا ایک خوش نما اور اہم حصہ تھا دنیا کے دو عظیم دریا دریائے فرات اور دریائے دجلہ عراق کے درمیان سے گزرتے ہیں۔اور اس کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں۔اس عہد کے دو مقامات طیسفون اور حیرا بہت اہم تھے۔طیسفون میں کسری کا پایہ تخت تھا اور مملکت فارس کی شان و شوکت کا مرکز تھا۔طیسفون دریائے دجلہ کے دونوں طرف پھیلا ہوا تھا ہم عربی لوگ اسے مدائن کہتے تھے۔حیرا عربی النسل خاندان کے بادشاہوں کا مرکز تھا۔حیرا میں کئی قلعے تھے اور یہ شہر دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع تھا۔ابلہ فارس کی مرکزی بندرگاہ تھی اور عراق میں واقع تھی۔ابلہ میں ہندوستان چین اور سمندر کے قریب دوسرے ایشائی ممالک کے بحری جہازوں کی آمد ورفت رہتی تھی۔عراق میں فارسی اور عربی دونوں قو میں بہتی تھیں۔فارسیوں کو ایرانی بھی کہتے تھے۔فارسی سپاہی اپنے وقت کے بہترین جنگی ساز و سامان سے مسلح تھے اور جنگی مہارت میں ان کی مثال نہیں ملتی تھی۔