سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 25
42 41 عظیم پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آنحضرت ﷺ کو ایران (فارس) کی فتح کی خبریں دے رکھی تھیں۔جن کا اظہار آپ ﷺ نے دو موقعوں پر فرمایا۔اوّل اس وقت جب آپ ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت فرما رہے تھے اور دوسرے غزوہ خندق میں جب کہ آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ مل کر متحدہ عرب قبائل کے حملے روکنے کے لئے مدینہ کے گرد ایک گہری اور چوڑی خندق کھود رہے صلى الله چنانچہ ہجرت مدینہ کے دوران مکہ کے رؤسا نے اعلان کیا کہ جوشخص آنحضرت عہ کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اسے سوسرخ اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔انعام کے لالچ میں ایک نوجوان سراقہ بن مالک آپ ﷺ کے تعاقب میں نکلا اور اس راستے پر پہنچ گیا جس پر آپ ﷺ حضرت ابوبکر کو لے کر سفر کر رہے تھے۔جب وہ قریب پہنچتا تو اس کا گھوڑا ٹھوکر کھا تا اور گر پڑتا کئی بار ایسا ہوا۔اس نے تیروں سے فال نکالی ( عربوں میں یہی دستور تھا) فال اس کے ارادے کے خلاف نکلی اس پر وہ زور سے چلا یا اورمحمد رسول اللہ ﷺ سے امان کا طلبگار ہوا۔سراقہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ واپس لوٹے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے؟۔سراقہ نے تعجب سے پوچھا کون؟ کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران؟ ﷺ نے فرمایا: ” اور کون۔یہ عظیم الشان پیشگوئی اس وقت کی گئی جب آنحضرت ﷺ بظاہر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں تھے۔تین دن اور رات تنگ و تاریک غار میں پناہ لے کر دشمن سے چھپ کر اپنا وطن مکہ چھوڑ کر ایک دوسرے شہر میں ہجرت فرما رہے تھے۔الله دوسرے غزوہ خندق کے موقع پر سارے عرب قبائل کے یکدم حملے کو روکنے کے لئے جب آپ ﷺ مدینہ کے گرد ایک گہری اور چوڑی خندق کھودرہے تھے۔دشمن کی آمد میں وقت بہت کم تھا ہم سب فاقے کر رہے تھے اور پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔خندق کی کھدائی کے دوران ایک ایسا پتھر نکلا جو کسی سے ٹوٹتا ہی نہیں تھا۔حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ میں کدال پکڑی اور پتھر پر تین ضربیں لگائیں ہر ضرب پر ایک چنگاری نمودار ہوتی اور حضور ﷺ اللہ اکبر کہتے تیسری ضرب پر پتھر ٹوٹ گیا۔صحابہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! آپ علی نے تین بار اللہ اکبر کیوں کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ضرب لگنے پر آگ کی چنگاری میں ایک کشفی نظارہ دکھایا جب میں نے پہلی بار اللہ اکبر کہا تو اس وقت مجھے شام کے سفید محلات دکھائے گئے اور شام کی کنجیاں دی گئیں۔دوسری بار جب اللہ اکبر کہا تو اس وقت مجھے مدائن کے سفید محلات دکھائے گئے اور فارس کی کنجیاں دی گئیں۔اور تیسری مرتبہ صنعاء کے