حضرت رقیہ ؓ

by Other Authors

Page 5 of 18

حضرت رقیہ ؓ — Page 5

حضرت رقیہ بنت حضرت محمد عالی ابولہب کی بیوی ام جمیل بہت چرب زبان ، بد مزاج ، سنگ دل صلى الله اور بد اخلاق عورت تھی۔رسول اللہ ﷺ نے جب اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو مشرکین نے نہ صرف آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ ﷺ اور دیگر مسلمانوں پر ظلم و ستم بھی شروع کر دیئے۔ابو لہب اور اس کی بیوی بھی رسول اللہ علہ کو ایذاء پہنچانے میں پیش پیش تھے۔ابولہب کی مذمت میں جب سورۃ لہب نازل ہوئی تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا۔جب تک تم حضرت محمدمہ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق نہ دو گے میرا سر تمہارے سر سے جدا رہے گا۔چنانچہ دونوں لڑکوں عتبہ اور عتیبہ نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت اُم کلثوم کو رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی۔(8) یہ پہلی بڑی تکلیف تھی جو حضرت رقیہ کو اسلام کی راہ میں اٹھانی پڑی۔حضرت قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ حضور اللہ نے عقبہ بن ابو لہب کے لیے ان الفاظ میں بد دعا فرمائی ” اے اللہ تو اس پر اپنے کتوں میں صلى الله سے ایک کتا مسلط کر دے“ چنانچہ حضور میلے کی یہ دعا قبول ہوئی۔اسے ایک شیر نے پھاڑ کھا یا تھا۔محققین و مؤرخین کا اس میں اختلاف ہے کہ جس کو شیر نے پھاڑ کھایا تھا وہ عتبہ تھا یا عتیبہ (9) حضرت رقیہ اور آپ کی دوسری بہنوں نے اپنی والدہ کے ساتھ