الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 647

616 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت مالک جن کا مالک بھی بن جاتا ہے۔اس دھوکہ باز پھیری والے کی دلچپسی چراغ میں مقید جن سے تھی نہ کہ چراغ سے۔اگر لاکھوں نئے چراغوں کے بدلے ایک پرانا چراغ حاصل کر کے جن پر قبضہ ہو جائے تو اس سے بہتر اور کونسا سودا ہو سکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ملاں کی دلچسپی نہ تو آنحضرت ﷺ کے روشن کردہ نئے نورانی چراغ سے ہے اور نہ ہی موسوی امت کے پرانے چراغ سے۔انہیں تو صرف اس شاہ خرچ عیسی سے دلچسپی ہے جو ان کی خیالی دنیا میں محصور ہے۔ان کی نظر میں آسمانی مشعل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔نہ تو انہیں نبی کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی کوئی پرواہ۔انہیں تو صرف ایک غلام جن کی ضرورت ہے جو ان کے اشاروں پر دنیا بھر کی دولت ان کے قدموں میں ڈھیر کر دے۔ان کی تمنا تو صرف یہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر سیاسی اور اقتصادی اقتدار حاصل کر لیں جس کے حصول کیلئے ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔انہیں صرف اسی کام میں مہارت ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹتے اور خون بہاتے رہیں۔کسی مسلم ملک میں ملاں کا لایا ہوا خونی انقلاب دوسروں کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ کر دے۔یہ انقلاب کسی طرح بھی طاقت کے توازن کو نہیں بگاڑ سکتا۔سائنسی اور تکنیکی ترقی کے بغیر دنیا پر غلبہ کا خواب، اقتصادیات اور صنعت میں انقلاب لائے بغیر طاقت کے موجودہ توازن کو بدلنے کی خواہش اور اسی طرح جدید ترین اور حساس سامان حرب کو خود بنانے کی قابلیت حاصل کئے بغیر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو چیلنج کرنا پاگل پن کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔کوئی ان سے پوچھے کہ اس مقصد کے حصول کیلئے تمہارے پاس ہے ہی کیا؟ ان ملاؤں کو خوب جان لینا چاہئے کہ اسلام کے مقدس بانی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان پیشگوئیوں کو دیدہ دلیری سے مسخ کرنے کی اس گھناؤنی حرکت کی سزا انہیں ضرور ملے گی۔ان ملا ؤں اور ان کے حواریوں کے مقدر میں سوائے ناکامی اور تباہی کے اور کچھ نہیں۔یہ وہ سزا ہے جو انہیں خدائی حکمت کو مسخ کرنے کی جسارت کی پاداش میں بہر حال بھگتنا ہوگی۔انہیں چاہئے کہ وہ