الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 648

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 617 چپ چاپ وقت گزرنے دیں اور اپنے کان آسمان سے اترنے والے عیسی کے قدموں کی آہٹ سننے کی طرف لگائے رکھیں۔یاد رکھیں کہ وہ نسلاً بعد نسل اسی امید اور انتظار میں جیئیں گے اور اسی حسرت کے ساتھ مریں گے۔لیکن ان کو ان کی سمج منہمی اور قول و فعل کے تضاد کے جال سے نکالنے والا کبھی نہیں آئے گا۔ہر لمحہ اور ہر پل جو گزرتا ہے وہ ان کے دلوں سے خدا کا خوف ختم کرتا جا رہا ہے۔دیانتداری، انصاف، بے لوث قربانی، باہمی اخوت اور دوسروں کی املاک کا احترام جیسے اخلاق قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ان کا ذکر تو بڑے زور شور سے کیا جاتا ہے لیکن انہیں اپنایا نہیں جاتا۔ان کے متعلق جوش و خروش تو بہت دکھایا جاتا ہے اور بڑے پیار اور محبت سے اخلاق عالیہ کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن صرف خیال کی حد تک۔چوری، ڈاکہ قبل، بچوں سے بدسلوکی ، اغوا، زنا، بدکاری، عصمت فروشی اور دھوکہ دہی جیسے جرائم کی وہی لوگ پولیس میں رپورٹ درج کرواتے ہیں جو ان کا شکار ہوتے ہیں اور جن کے ساتھ یہ سانحہ گزرا ہوتا ہے۔باقی لوگ اسی گندے ماحول میں رہ کر ہی اس غلیظ زندگی سے صلح کر لیتے ہیں۔مزید برآں امن و سلامتی کے نام نہاد محافظ ہی دن دہاڑے اجتماعی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔رشوت، بد دیانتی اور کھلے بندوں دیدہ دلیری سے قانون شکنی کی جسارت ان اعلیٰ عدالتوں کے ان منصفین کا شیوہ ہے جو انصاف کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔ایسے معاشرہ میں یہی سلامتی کے رکھوالے لوگوں کے ناحق قتل اور شر کی اشاعت کے ذمہ دار ہیں جس کی وجہ سے فتنہ و فساد روز مرہ کا دستور بن جاتے ہیں۔تاہم یہ عجیب بات ہے کہ ابھی تک یہ معاشرہ اچھے اور برے کی تمیز سے کلیہ عاری نہیں ہوا۔معاشرہ جس برائی کو جنم دیتا ہے اسی سے نفرت بھی کرتا ہے۔جن خوفناک جرائم کا مرتکب ہوتا ہے انہی سے کراہت بھی محسوس کرتا ہے۔اپنی ہی پھیلائی ہوئی گندگی سے گھن بھی کھاتا ہے۔اپنی ہی پیدا کردہ برائیوں کی جگہ جگہ اور ہمہ وقت مذمت بھی کی جاتی ہے۔ان برائیوں پر اس زور شور اور تکرار سے تنقید اور لعنت ملامت کی جاتی ہے کہ اس کی بازگشت اقتدار کے اونچے ایوانوں سے لے کر غریب کی کٹیا تک سنائی دیتی ہے۔حیرت ہے کہ اس کے باوجود روز مرہ کی زندگی میں معاشرہ کے ہر طبقہ میں اور ہر سطح پر ان برائیوں کو بلا تردد اختیار بھی کیا جاتا ہے۔ان کا عمل ان کے قول سے متصادم ہوتا ہے۔اس جھوٹ کے ساتھ وہ زندہ رہتے ہیں