الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 605

574 مستقبل میں وحی و الهام سال گزر گئے لیکن ان کی توقعات پر پورا اتر نے والا مسیح اب تک نازل نہیں ہوا۔مرور زمانہ سے دنیا کا سیاسی جغرافیہ بھی بدل چکا ہے اور مسیح کی آمد کی پیشگوئی اپنی اہمیت بھی کھو چکی ہے اور اب تو یہودیہ یا فلسطین نام کی کوئی ریاست بھی رومی سلطنت کے تسلط میں نہیں رہی جس سے نجات دلانا مقصود تھا۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ رومی سلطنت جو کسی زمانہ میں آدھی دنیا پر حاکم تھی اب تو وہ دنیا کے نقشہ سے ہی گلیڈا مٹ چکی ہے۔بے شک نجات کا لفظ تو اب بھی ہم سنتے ہیں لیکن موجودہ دور میں تو اس سے ” یہود کی نجات کی بجائے ” یہود سے نجات مراد لی جاتی ہے۔ا کا اگر چہ یہود کا یہ عقیدہ درست تھا کہ مسیح کی پیدائش عام انسانوں کی طرح شکم مادر ہی سے ہوگی لیکن انہوں نے مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے کچھ ایسی مافوق الفطرت اور عجیب و غریب شرائط وابستہ کر رکھی تھیں جن کا پورا ہونا کسی طور ممکن نہ تھا۔مثلاً یہود کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح کی آمد سے ایلیا کا آسمان سے جسمانی نزول ضروری ہے۔دراصل یہی وہ عقیدہ تھا جو ان کے زعم میں مسیح کی آمد کے رستہ میں روک بنا ہوا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح کی آمد کی نسبت یہود کا عقیدہ دوسرے لفظوں میں مسیح کی آمد کے انکار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔یہودیوں کے بعد اگر عیسائیوں کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں مذکورہ بالا صورت حال سے کچھ مختلف حالت دکھائی نہیں دیتی۔ذرا عیسائیوں کے خیالی مسیح کوشان و شوکت کے ساتھ زمین پر دوبارہ اترتے ہوئے تصور کریں جیسا کہ وہ ظاہری معنوں میں اس کی آمد ثانی کے منتظر ہیں۔خدا کے بیٹے کا انسانی شکل میں زمین پر یوں شاہانہ انداز میں اترنے سے تخیل کو ایک دیو مالائی داستان ہی کہا جا سکتا ہے۔چلو اتنا تو ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کی اب تک امید لگائے بیٹھے ہیں۔اور پھر اس سے طفیل ایک طرح کا اندھا اعتقاد بھی زندہ ہے۔اگر غیر جانبدارانہ نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جائے تو اس عقیدہ کی نا معقولیت اور کھل کر سامنے آجاتی ہے۔کوئی شخص جو عیسائی نہ بھی ہو اور مذہب میں دلچسپی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو کبھی اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔کیونکہ یہ عقیدہ روح اور مادہ کے درمیان ایک نہایت ناقابل قبول اور بے تکے بندھن کا تصور پیش کرتا ہے۔افسوس کہ عیسائیوں کو اس میں نا معقولیت کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا کیونکہ خوش اعتقادی نے انہیں اندھا کر رکھا ہے۔یہودیوں اور عیسائیوں کی یہی غیر معقول صورت حال دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی