الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 560

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 531 ہے جو قرآنی آیات کی ہماری تشریح کے عین مطابق ہیں حتی کہ پہاڑوں کی حرکت کو اس رنگ میں بیان کیا گیا ہے جس سے متعلقہ قرآنی آیات فور آیاد آجاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کا درقبال اور اس کے منفرد گدھے کا بیان جس پر وہ سواری کرے گا ، آپ ﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو انتہائی عجیب لگا ہوگا کیونکہ باوجود اس حقیقت کے کہ آپ ﷺ اس سواری کو بار بار گدھا قرار دیتے ہیں اس میں گدھے کی معروف خصوصیات میں سے ایک بھی نہیں پائی جاتی۔تاہم موجودہ زمانہ کے تمام ذرائع نقل و حمل پر یہ تعریف پوری طرح صادق آتی ہے۔ان سب ذرائع میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے۔یہ سب آگ سے توانائی حاصل کرتے ہیں حتی کہ بھاپ سے چلنے والے ریلوے انجن کا انحصار بھی دراصل آگ پر ہی ہے۔یہ وہ فرق ہے جو د قبال کے زمانہ میں جانوروں کی سواری اور نئے انقلابی ذرائع نقل و حمل کے مابین پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سواری کسی جانور کی بجائے ایک غیر جاندار چیز ہوگی۔ہم نے اس سواری کیلئے انگریزی میں her کی ضمیر محض اس لئے استعمال کی ہے کیونکہ پیشگوئی میں اسے جانور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یہی درحقیقت اس کی پہچان کی علامت ہوگی۔اگر آپ دقبال کے گدھے کو پہچان لیں تو آپ جدید ذرائع آمد و رفت کو شناخت کر سکتے ہیں ورنہ بصورت دیگر آپ واپس گدھوں کے زمانہ میں لوٹ جائیں گے۔اسی طرح احادیث کی مختلف کتب میں دجال کے اس تمثیلی گدھے کی مختلف خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ان احادیث سے ماخوذ معلومات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔۔اپنے گدھے کی طرح خود و جال بھی اتنا بڑا اور دیو قامت ہوگا کہ اس جیسا وجود دیو مالائی کہانیوں میں بھی نہیں ملتا۔وہ اس قدر لمبا ہو گا کہ گویا اس کا سر بادلوں سے بھی اوپر نکلا ہوا ہو۔وہ اتنا طاقتور ہو گا کہ تن تنہا ساری دنیا کو تسخیر کر لے گا۔11 2 اپنی تمام تر جسمانی خوبیوں کے باوجود اس میں ایک نقص یہ ہوگا کہ وہ دائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔12۔یہ گدھا صرف دجال کے ہی کام نہیں آئے گا بلکہ عوام الناس کو بھی نقل و حمل کیلئے