الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 466
446 عضویاتی نظام اور ارتقا بڑی آنکھوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔10 لہذا جانوروں کے بصری نظام کے ارتقا کیلئے محض پچاس کروڑ سال کا عرصہ بچتا ہے جو نا قابل یقین حد تک کم ہے۔اس بات کا بھی خیال رہے کہ پچاس کروڑ سال کے اس عرصہ کو مزید چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جانا ضروری ہے جن میں سے ایک حصہ زندگی کے اجزائے ترکیبی کی تخلیق کیلئے بھی درکار ہے۔تاہم آغاز سے زندگی کی تکمیل کے لئے اب تک کا عرصہ نہایت قلیل ہے۔گویا مطلوبہ وقت کے مقابلہ میں یہ عرصہ محض ایک رتی کے برابر ہے۔صرف زندگی کے اجزائے ترکیبی کی تخلیق کیلئے اس سے کہیں زیادہ وقت درکار ہے جتنا وقت ارتقائے حیات پر اب تک صرف ہوا ہے۔یہی وہ گمبھیر معمہ ہے جس کا سائنسدانوں کو سامنا ہے جبکہ باقی دنیا اس مخمصہ کا شکار ہے کہ ان سائنسدانوں کی عقل پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔عالم حیوانات میں پائی جانے والی ہر قسم کی آنکھ وہی کام کرتی ہے جس کے لئے اسے تشکیل دیا گیا ہے اور وہ اپنے ماحول سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اگر ارتقائی عمل بے مقصد ہوتا تو کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا ہی ناممکن تھا جس کا ایک مخصوص کام ہو۔ایک معمولی سے آلہ کی تیاری سے بھی پہلے اس کے مقصد کی تعیین ضروری ہوتی ہے اور یہی حیات کے اسرار و رموز کی سادہ اور عام فہیم منطق ہے۔انسان نے سب سے پہلے پتھروں سے کام لینا شروع کیا۔بظاہر یہ پتھر بے مقصد تھے مگر جیسے ہی ہم انہیں ایک دستہ والی کلہاڑی کی صورت میں ڈھالتے ہیں تو کوئی بھی معقول اور صحیح الدماغ شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ معمولی ساہتھیار بھی بغیر کسی مقصد کے محض اتفاقاً وجود میں آ گیا ہے جبکہ زندگی تو اس کی نسبت اربوں گنا زیادہ پیچیدہ اور وسیع ہے ہر تخلیق کا ایک مقصد ہے جس کو پورا کرنے کیلئے اسے تشکیل دیا گیا ہے۔چنانچہ اسے ایک بے مقصد تخلیقی سفر قرار دینا اندھے پن کی انتہا ہے۔