الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 465
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 445 تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض جانور جن میں آنکھ ہوتی ہی نہیں، روشنی پیدا کرنے والے بعض جانوروں کی بہت مدھم روشنی میں بھی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔یہ دریافت ایک نہایت حساس الیکٹرانک مشین ventana کی مدد سے کی گئی ہے جس میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا اور جسے تاروں کے ذریعہ مسلسل برقی توانائی پہنچا کر کنٹرول کیا جاتا ہے۔بحری جہازوں میں اوپر بیٹھے ہوئے سائنسدانوں کو انہی تاروں کے ذریعہ معلومات موصول ہوئی ہیں جو دن رات ان کے مشاہدہ میں مصروف رہتے ہیں۔اس تجربہ کی ایک نہایت دلچسپ رپورٹ جولائی 1995 ء کے سائنٹفک امریکن رسالہ میں شائع ہوئی ہے۔دیگر بہت سی حیرت انگیز باتوں کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ Medusae نامی جیلی فش (Jelly fish) جس کی آنکھیں ہوتی ہی نہیں جب اس پر روبوٹ کی روشنی پڑتی ہے تو رد عمل کے طور پر وہ زیادہ گہرائی میں چلی جاتی ہے۔اسی امر کا ہم اس سے قبل ذکر کر چکے ہیں کہ دراصل ادنی درجہ کی مخلوق میں بھی ایک مبہم سا احساس ضرور ہوتا ہے جو تصرف الہی کے تحت بالآخر اعضائے جس کی تخلیق پر منتج ہوتا ہے۔اکثر ہر آغاز اگر چہ نہایت معمولی ہوتا ہے تا ہم اس میں ارتقا کے بڑے حیران کن مراحل کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔بصارت کا یہ مبہم احساس جو ہمیں Mechisae میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے اس سے اگلا قدم ایک ایسی آنکھ کی تخلیق ہے جو pin hole کیمرہ کی طرح بغیر عدسہ کے ہو۔اور قانون قدرت میں ہمیں بعینہ اسی طرح نظر آتا ہے۔مگر ڈارون کا نظریہ اس بار یک سوراخ (pin hole) والی ابتدائی آنکھ کی تشریح کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس ابتدائی سطح پر بھی بصارت کا مکمل نظام موجود ہے نہ کہ صرف معمولی سا سوراخ۔ان جانوروں میں ایک کی بجائے دو pin holes موجود ہوتے ہیں جو باہم مربوط معلومات کو عقب میں موجود عضو receptacle تک پہنچاتے ہیں جہاں سے یہ معلومات ایسی حس شعور تک پہنچتی ہیں جسے ابتدائی دماغ قرار دیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں انسانوں میں پایا جانے والا بصری نظام کروڑوں سال پہلے کے جانوروں میں بھی بعینہ اسی ترقی یافتہ شکل میں موجود تھا۔اس صورت میں زندگی کے آغاز سے ان جانوروں کی اتفاقی تخلیق تک اندھے ارتقا کیلئے وقت اور بھی کم رہ جاتا ہے۔اکثر حشرات میں مکمل بھری نظام پایا جاتا ہے۔اسی طرح آسٹریلیا سے ملنے والی پچاس کروڑ سال پرانی مچھلیوں کے متحجرات (fossils) میں سوراخ پائے گئے ہیں جو بڑی +4