الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 372

366 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح ارتقا کی سمت تبدیل ہو جانے کے ان گنت امکانات موجود تھے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ حیات نے ارتقا کا ایک ہی معین راستہ کیوں اختیار کیا؟ یوں لگتا ہے جیسے کوئی اور راستہ تھا ہی نہیں۔سائنسدان اس کی صرف ایک توجیہہ پیش کرتے ہیں اور وہ ہے ” انتخاب طبعی کا کردار۔اگر چہ وہ اس مسئلہ کی اہمیت اور اس کے مختلف پہلوؤں سے بخوبی آگاہ ہیں اس کے باوجود وہ نہیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہر اہم مرحلہ پر انتخاب طبعی نے ان گنت راستوں میں سے ہمیشہ صحیح دارون راستہ کا ہی انتخاب کیا۔جب سے ڈارون نے انتخاب طبعی کی اصطلاح وضع کی ہے فطرت کے سربستہ رازوں کی تلاش میں مصروف سائنسدانوں کے لئے اس نے جادو کی چھڑی کا کام کیا۔ایسے شواہد کی موجودگی کے باوصف جو ایک مقتدر بالا رادہ اور باشعور خالق کے فیصلہ کن کردار کی طرف اشارہ کرتے ہیں سائنسدان اس دھندلی اور مہم اصطلاح کی پناہ ڈھونڈتے ہیں جسے بالعموم غلط سمجھا گیا ہے۔ارتقا کے ہر اگلے قدم کو غالباً غیر ارادی طور پر انہوں نے ان بے شمار اتفاقات کی طرف منسوب کیا ہے جن میں سے انتخاب طبعی کا عمل محض ایک اتفاق کا انتخاب کر لیتا ہے۔لیکن وہ اس امر پر متفق ہیں کہ انتخاب طبعی کا یہ عمل اتفاقی اور غیر شعوری ہے۔جب مختلف انواع اپنی اپنی بقا کی خاطر جد و جہد میں مصروف ہوں تو یہ ایک قدرتی امر ہے کہ بقا کیلئے موزوں ترین انواع قائم رہیں گی جبکہ غیر موزوں ختم ہو جائیں گی۔اب ہم ڈارون کی ایک اور گھسی پٹی اصطلاح یعنی ” بقائے اصلح کا ذکر کرتے ہیں جسے ماہرین حیاتیات نے بکثرت استعمال کیا ہے۔یہ اصطلاح اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ قدرتی انتخاب کا عمل خواہ کتنا ہی اندھا کیوں نہ ہو ہمیشہ درست ہو گا اور بقا کی اس جدو جہد میں ہمیشہ موزوں ترین ہی باقی رہے گا اور کمزور لازماً مٹ جائے گا۔ڈارون کے اس اصول کی اس قدر غلط تشریحات کی گئی ہیں کہ یہ اصول خود محل نظر بن چکا ہے۔تمام کرہ ارض پر ایسے ناقابل تردید شواہد پھیلے ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کمترین خصوصیات کی حامل انواع اور ارتقا کے سب سے نچلے درجہ پر