الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 8

تعارف : تاریخی تناظر میں ہے یعنی خالق کا ئنات کا جو ازلی ابدی ہے۔لہذا اگر ایک علیم وخبیر ، قادر مطلق اور حاضر ناظر ہستی کے وجود کو ثابت کیا جا سکے جو ازلی ابدی ہو، ہر کمزوری سے پاک ہو، اعلیٰ وارفع ، سب طاقتوں کی مالک اور تمام تنزیہی صفات سے متصف ہو تو صرف اور صرف ایسی ہستی کے حوالہ ہی سے دائگی سچائی کا عرفان ممکن ہے۔لیکن یہ مفروضہ اس امکان کے ساتھ مشروط ہے کہ نہ صرف یہ کہ ایک قادر مطلق خدا موجود ہے بلکہ وہ بنی نوع انسان کو مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف فرماتا ہے جسے مذہبی اصطلاح میں الہام کہا جاتا ہے۔اتنے اہم موضوعات پر خالصہ سیکولر اور منطقی بنیادوں پر بحث کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی شامل کر لیا جائے کہ کیا الہام نے انسان کی رہنمائی میں کوئی قابل ذکر کر دار ادا کیا ہے تو اس مسئلہ کا حل اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔بایں ہمہ اس راہ میں حائل تمام تر دقتوں کے باوجود ہم اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔اس مرحلہ پر قاری کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس بحث کی باریکیوں کو سمجھنے کی پوری کوشش کرے۔جب وہ ایک بار فلسفیانہ اور عقلی دلائل کی بھول بھلیوں سے واقف ہو جائے گا تو اس معمہ کو حل ہوتے دیکھ کر وہ یقیناً لطف اندوز ہوگا۔مذہب کے حوالہ سے جدید مفکرین اور ماہرین عمرانیات کا ایک مکتب فکر ایسا بھی ہے جو مذہب کے ظہور اور ارتقا کو انسان کے عقلی ارتقا کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ان کے خیال میں ماضی بعید کے ابتدائی دور میں انسان اپنی کمتر عقلی استعداد کے باعث بہت سے دیوتاؤں کی پرستش کی طرف مائل ہوا اور ان شروعات سے بالآخر ایک معبود کے تصور نے جنم لیا جسے خدا، اللہ یا پر ماتما وغیرہ مختلف ناموں سے پکارا جانے لگا۔اگر اس نظریہ کو تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ تاریخ کے ہر دور میں انسان کی بدلتی ہوئی استعدادوں کے مطابق ہی مذہب اپنے ارتقا کی منازل طے کرتا چلا آیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ خیال مذاہب عالم کے اس نقطہ نظر سے بنیادی طور پر متصادم ہے جس کے مطابق مذہب کا منبع و ماخذ الہام الہی ہے۔اس عقیدہ کی رو سے یہ ازلی ابدی اور حکیم خدا ہی ہے جس نے انسان کو مذہب یعنی آسمانی ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے۔اہل مذہب کے نزدیک انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں شرک کی موجودگی مذہبی انحطاط ہی کی مرہون منت ہوا کرتی ہے۔انبیاء